ایک طرف یوکرین میں روس کا فوجی آپریشن آج نویں روز بھی جاری ہے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کوکہا ہے کہ وہ اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتین کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ کیف اور ماسکو کے درمیان "جنگ روکنے کا واحد راستہ ہے"۔
زیلنسکی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مجھے پوتین سے بات کرنی ہے کیونکہ یہ جنگ کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔ میں پوتین کے ساتھ "کھلے" طریقے سے اور "تمام مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار" ہیں۔
انہوں نے دنیا کے ممالک سے یوکرین کی حمایت کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ "اپنے وطن کا دفاع ہمارا فرض ہے۔"
جنگجوؤں بلانے کا اعتراف
یوکرینی صدر نے مزید شہریوں کی ہلاکت سے بچنے کے لیے نو فلائی زون کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مغرب سے یوکرین کو جنگی طیارے فراہم کرنے کے لیے کہا تھا مگر ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔
مجھے اپنے لیے ڈرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔میں اپنے خاندان کے لیے ڈرتا ہوں۔
جمعرات کوصدر زیلنسکی نے ایک ویڈیو کلپ میں کہا کہ کیف کے بین الاقوامی اتحادی روسی فوجی آپریشن کے پیش نظر ان کے ملک کو روزانہ دفاعی ہتھیار بھیجتے ہیں۔ یہ سلسلہ ایک ہفتہ قبل شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔
لڑنے کے لیے 16,000 رضاکار
انہوں نے کہا کہ 16,000 رضاکار ہیں یوکرین کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔ روسی حملے کے مقابلے میں دفاعی لائنیں مضبوط ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آدھی رات سے روسی بمباری نہیں رکی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ روس نے 24 فروری (2022) کو یوکرین میں فوج کشی کی تھی۔ کریملن اور مغرب کے درمیان کئی مہینوں تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد روس نے مشرقی یوکرین میں ڈوگانسک اور لوہانسک کے علیحدگی پسند علاقوں کی آزادی کو تسلیم کیا تھا۔
یورپی یونین،امریکا کے ساتھ ساتھ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان اور دیگر ممالک نے روس پر سخت اور تکلیف دہ پابندیاں عائد کیں۔