امریکی وزارت خزانہ نے جمعے کی رات نئی پابندیوں کا اعلان کیا جن کا ہدف کریملن ہاؤس میں موجود شخصیات اور روسی دولت مند افراد ہیں۔
ان روسی شخصیات میں VTB بینک کے مینجمنٹ بورڈ کے 10 افراد، روسی پارلیمنٹ کے 12 ارکان اور کرملن ہاؤس کے ترجمان دمتری بیسکوف کے اہل خانہ شامل ہیں۔
امریکی وزارت خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کا ہدف وہ شخصیات ہیں جنہوں نے یوکرین پر روسی صدر کے وحشیانہ اور غیر قانونی حملے کی حمایت کی۔
امریکا نے دو روسی شخصیات اور 3 اداروں پر بھی اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان پر شمالی کوریا کے اسلحہ پروگرام کو سپورٹ کرنے کا الزام ہے۔
امریکی وزارت خزانہ میں دہشت گردی اور مالی انٹیلی جنس کے امور کے سکریٹری برائن نیلسن نے ایک بیان میں بتایا کہ نئی پابندیوں میں روس میں موجود ان افراد اور اداروں کے نیٹ ورک کو ہدف بنایا گیا ہے جو Democratic People's Republic of Korea کے غیر قانونی بیلسٹک میزائل نظام کے واسطے لوازمات کی خریداری میں معاونت میں شامل ہیں۔ اس سرگرمی کا بڑا حصہ اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا سے متعلق پابندی کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔
ادھر امریکی حکام 24 فروری کو یوکرین پر حملے کے بعد روسی صدر ولادی میری پوتین کے ساتھ مربوط اشرافیہ کی سرزنش کے واسطے کوشاں ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں میں بیلا روس میں موجود دولت مند اشرافیہ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جو یوکرین کے خلاف فوجی مہم میں پوتین کو سپورٹ کر رہی ہے۔
یوکرین پر حملے کے بعد مغربی ممالک کی جانب سے روس پر بھاری پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ اس طرح روس عالمی سطح پر سب سے زیادہ پابندیوں کا شکار ملک بن گیا ہے۔
-
امریکا کا شمالی کوریا سے ’غیرقانونی میزائل تجربات بند‘ کرنے کا مطالبہ
امریکا نے شمالی کوریا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی غیر قانونی تخریبی سرگرمیاں بند ...
بين الاقوامى -
شمالی کوریا کا ایک ہفتے کے اندر ’بیلیسٹک‘ میزائل کا دوسرا تجربہ
پیونگ یانگ نے چند دنوں پہلے ہائپرسونک ہتھیار کے کامیاب تجربے کا دعوی کیا تھا
بين الاقوامى -
شمالی کوریا کی خاتون اول کی زندگی کے حیران کن راز
شمالی کوریا کے مرد آہن 'کم جونگ ان' اپنی متنازع حرکتوں کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں ...
بين الاقوامى