برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اگلے ہفتے روس کے ہمسایہ ممالک اسکینڈینیوین اور بالٹک ممالک کے رہ نماؤں کے ساتھ سرد جنگ کے بعد نیٹو کی سب سے بڑی فوجی مشقوں میں سے ایک کے موقع پر ایک سربراہی اجلاس کا اہتمام کریں گے۔ یہ مشقیں کل پیر سے ناروے میں شروع ہو گی۔
مشقوں میں 27 ممالک کے 30,000 سے زائد فوجی حصہ لیں گے جنہیں "کولڈ ریسپانس ایکسرسائز" کا نام دیا گیا ہے جو صفر درجہ حرارت میں تربیت حاصل کریں گے۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق متوازی طور پر جانسن منگل کو لندن میں جوائنٹ ایکسپیڈیشنری فورس (JEF) کے رہ نماؤں سے ملاقات کریں گے جو دس ممالک پر مشتمل شمالی یورپ میں سیکیورٹی پر مرکوز اتحاد ہے۔
جانسن نے بیان میں کہا کہ روس کے یوکرین پر حملے سے یورپی سلامتی متزلزل ہو گئی ہے اور ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں گے کہ ہم پہلے سے زیادہ مضبوط اور متحد ہو کر ابھریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ "(روسی صدر ولادیمیر) پوتین کی دھمکیوں کے خلاف ہماری مزاحمت کو یقینی بنانا اور فوجی پہلو سے آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ شمالی سمندر اور بحیرہ بالٹک میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہم اپنی توانائی کی فراہمی اپنی معیشت اور اپنی اقدار میں روسی مداخلت سے محفوظ رہیں۔
جوائنٹ ایکسپیڈیشنری فورس جو 2012 میں قائم کی گئی تھی بحر اوقیانوس کے ارکان برطانیہ، ڈنمارک، ایسٹونیا، آئس لینڈ، لٹویا، لتھوانیا، ہالینڈ اور ناروے پر مشتمل ہے تاہم فن لینڈ اور سویڈن اس اتحاد کے رکن نہیں۔
"جیف" اتحاد کے ممالک بحیرہ بالٹک میں برطانیہ کی قیادت میں اپنی فوجی مشقیں کر رہے ہیں تاکہ روس کی سرحد سے متصل اسٹریٹجک علاقے میں "آزادی نقل و حرکت" کو یقینی بنایا جا سکے۔