روس اور یوکرین

مغرب ہمیں تنہا کرنے اور نیٹو مشرق میں توسیع کے لیے کوشاں ہے: لاؤروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے مغربی ممالک کی پالیسی پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ ان کے مطابق اس پالیسی کے ذریعے روس کے کردار کو کم تر بنانے اور اسے تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لاؤروف آج بدھ کے روز ماسکو میں بین الاقوامی تعلقات کے سرکاری انسٹی ٹیوٹ کے اساتذہ اور طلبہ سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ "مغرب اس کوشش میں ہے کہ روس کا کردار محض علاقائی کھلاڑی کے طور پر محدود کر دیا جائے۔ امریکا یک قطبی نظام کا ماڈل پوری طرح مسلط کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت روس کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ اس کے بعد چین کا نمبر آئے گا"۔

روسی وزیر خارجہ کے نزدیک بعض ممالک اپنے ذاتی مفادات کی خاطر مستحکم عالمی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماسکو ان کوششوں کو مسترد کرتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کے اطلاق پر عمل پیرا ہے۔

لاؤروف کے مطابق یورپ نے یوکرین کو یورپی یونین میں شمولیت یا ماسکو کے ساتھ اتحاد کا اختیار دیا۔

روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ شمالی اوقیانوس کا اتحاد نیٹو مشرق میں توسیع کی کوششوں سے باز نہیں آ رہا ہے جو روس کی سلامتی کے لیے خطرے کی بات ہے۔ لاؤروف کے مطابق اُن کے ملک نے بارہا سیکورٹی اندیشوں کو مذاکرات کی میز پر پیش کیا تاہم مغرب نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔

تاہم موجودہ کشیدگی اور تناؤ کی شدت کے باوجود لاؤروف نے باور کرایا کہ ان کا ملک واشنگٹن اور یورپ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

واضح رہے کہ یوکرین میں 24 فروری کو روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے ماسکو ایک سے زیادہ مرتبہ یہ موقف دہرا چکا ہے کہ وہ اپنی مغربی سرحد پر کوئی خطرہ قبول نہیں کرے گا۔ روس اس مطالبے پر ڈٹا ہوا ہے کہ یوکرین کو ایک غیر جانب دار ملک بنا دیا جائے تا کہ ماسکو کے اندیشے دور ہو سکیں۔

روس ایک سے زیادہ مرتبہ یہ مطالبہ بھی کر چکا ہے کہ یوکرین کو نیٹو اتحاد میں شامل کرنے یا مشرقی یورپ کے ممالک میں نیٹو کی توسیع کی کوششیں روک دی جائیں۔ ماسکو کے نزدیک یہ دونوں امور سرخ لکیر ہیں۔ تاہم مغربی ممالک ان مطالبات کو مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ ہر ملک کو کسی بھی بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت کی آزادی حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں