امریکا کے محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ہفتے کے روز فوجی اڈے گوانتاناموبے میں گذشتہ کئی برس سے قید ایک شخص کوالجزائر میں واپس بھیج دیا ہے۔
محکمہ دفاع نے ایک بیان میں اس شخص کی شناخت سفیان برہومی کے نام سےکی ہے اور کہا ہے کہ امریکی اڈے پراب اس کو مزید زیرحراست رکھنے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔
برہومی کو2002 میں گوانتانامو بے میں منتقل کیا گیا تھا۔امریکا نے 11 ستمبر2001ء کو نیویارک، پینٹاگون اور پنسلوانیا کے دیہی علاقے میں طیارہ حملوں کے ردعمل میں القاعدہ نیٹ ورک کے تعاقب میں اسی سال اکتوبرمیں افغانستان پرچڑھائی کردی تھی اور اس نے وہاں سے پکڑے جانے والے القاعدہ یا طالبان جنگجوؤں کو قید رکھنے کے لیے کیوبا میں واقع اپنے فوجی اڈے پرحراستی کیمپ قائم کیا تھا۔
امریکا نے بعد کے برسوں میں افغانستان اور دوسرے علاقوں سے گرفتاری کے بعد القاعدہ اور طالبان کے مبیّنہ سیکڑوں جنگجوؤں کو گوانتاناموبے کے بدنام زمانہ حراستی کیمپ میں منتقل کیا تھا اور بڑی تعداد میں قیدیوں کو کسی فردِالزام یا مقدمات چلائے بغیردوعشرے تک اس حراستی کیمپ میں مقیّد رکھا تھا۔اس پر اس کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ہے۔
ایک وقت میں اس حراستی مرکز میں قید افراد کی تعداد قریباً 800 تک پہنچ گئی تھی۔ پھر2009-2017 تک سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے اس عقوبت خانے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ان کے دورمیں ان مشتبہ قیدیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی تھی اور انھیں وہاں سے ان کے آبائی ممالک یا دوسرے ملکوں میں منتقل کردیا گیا تھا۔
محکمہ دفاع نے ہفتے کے روزمزید بتایا کہ اس وقت 37 قیدی گوانتاناموبے میں موجود ہیں۔ان میں سے 18 دوسرے ملکوں یا مقامات میں منتقلی کے اہل ہیں،سات پیریڈک (مرحلہ وار)ریویو بورڈ کے اہل ہیں، 10 فوجی کمیشن کے عمل میں شامل ہیں اور دو قیدیوں کو فوجی کمیشن قصوروار قرار دےچکا ہے لیکن انھیں سزاسنانے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔