طرابلس میں لیبیا کی دو سب سے بڑی ملیشیاؤں کے درمیان مسلح جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لیبیا میں دارالحکومت طرابلس کے وسط میں پیر کی شب شدید مسلح جھڑپیں ہوئیں۔ یہ جھڑپیں وزارت داخلہ کے زیر کنٹرول "النواصی" ملیشیا اور "اسٹیبلٹی سپورٹ اتھارٹی" ملیشیا کے عناصر کے درمیان ہوئیں۔ اتھارٹی کا سربراہ عبدالغنی الککلی عُرف "غنیوہ" ہے۔ مذکورہ دونوں ملیشیا دارالحکومت طرابلس اور لیبیا کے مغرب میں کنٹرول رکھنے والی سب سے بڑی فورسز ہیں۔

گذشتہ روز کی جھڑپوں میں ہر طرح کے درمیانے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ آخری خبریں آنے تک طرابلس کے وسط میں لڑائی جاری تھی۔ اس دوران میں النواصی ملیشیا کے دو ارکان ہلاک ہو گئے۔

جھڑپوں میں وسیع پیمانے پر فائرنگ کے تبادلے اور راکٹوں کی زور دار آوازیں سنی گئیں۔ اس کے نتیجے میں شہریوں کے اندر خوف اور دہشت پھیل گئی۔ بالخصوص نمازیوں میں جو مساجد میں تراویح ادا کر رہے تھے۔ مسلح ارکان نے شہر کے کئی راستوں کو بند کر دیا۔

لیبیا میں اس وقت دو متوازی حکومتیں اقتدار پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مد مقابل ہیں۔ اس کھیل میں دارالحکومت طرابلس اور لیبیا کے مغربی شہروں پر کنٹرول رکھنے والی ملیشیائیں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

لیبیا میں کئی ماہ سے سیاسی کشیدگی سنگین نوعیت اختیار کر گئی ہے۔ اس کی وجہ موجودہ حکومت کے سربراہ عبدالحمید الدبیبہ کا اقتدار نئی حکومت کے حوالے کرنے سے انکار ہے۔ لیبیا کی پارلیمنٹ نے فتحی باشاغا کو نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمے داری سونپی ہے۔ باشاغا نے گذشتہ ماہ سے ملک کے مشرقی اور جنوبی حصے سے اپنی ذمے داری انجام دینا شروع کر دی ہے۔ وہ طرابلس میں اپنے مشن کی انجام دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں