’تازہ لیکس‘۔ اخوان نے اسرائیل کے مفادات کو خطرے میں ڈالنے سے انکار کیا:الشاطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سیریز "دی چوائس 3" کی نشریات جو اس وقت مصر میں دکھائی جا رہی ہے میں مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے دور حکومت سے متعلق کئی چشم کشا انکشافات کیے گئے ہیں۔ اخوان کے سابق نائب مرشد عام خیرات الشاطر کی ایک نئی لیک سامنے آئی ہے جس سے تنظیم اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کا پتا چلتا ہے۔

تازہ لیک کے دوران الشاطر نے اس بات پر زور دیا کہ ’ اخوان المسلمون اسرائیل کے مفادات کا خیال رکھتی ہے اور اخوان کے اس کے ساتھ جنگ میں جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ مصری اسرائیلی مفادات کے خلاف کوئی قدم اٹھائیں۔ اس لیے آج ہم ملک میں تباہی نہیں چاہتے، ہم افراتفری نہیں چاہتے، ہم تخریب کاری نہیں چاہتے، ان کے مفادات کے خلاف بھی نہیں، ہماری کسی سے جنگ نہیں ہے‘۔

معزول صدر محمد مرسی کی ایک پچھلی لیک نے اس بات کی تصدیق کی کہ اخوان اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی حمایت کرتھا مگر اخوان کےمرشد عام محمد بدیع کی مداخلت کے بعد اس معاہدے کی مخالفت کی گئی۔ ساتھ ہی مرسی کے الفاظ کے افشا ہونے کو روکنے کی ہدایت کی گئی۔

اگرچہ جماعت ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ اپنی دشمنی اور فلسطینی کاز کے لیے اپنی حمایت کرنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن حالیہ موقف اور لیکس نے دونوں فریقوں کے درمیان باہمی مفادات کے وجود کو ظاہر کیا۔

گزشتہ سال جون میں اسرائیل میں عرب اقلیت سے تعلق رکھنے والے اخوان المسلمون کے سیاست دان منصور عباس نے دائیں بازو کی نفتالی بینیٹ اور بائیں بازو کی جماعت یائر لاپڈ، جو کہ "مستقبل" پارٹی کے رہ نما ہیں کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی اسلامی تحریک کی شوریٰ کونسل نے متحدہ عرب لسٹ کے رہ نما منصور عباس کو "مستقبل" پارٹی کے سربراہ یائر لاپڈ میں شامل ہونے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ اسرائیلی حکومت تشکیل دے سکیں۔ .

سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں نے عباس کی ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جو معزول مصری صدر محمد مرسی کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور انہیں "شہید" کہہ رہے ہیں۔ وہ "تمام عرب نوجوانوں کے لیے ایک علامت کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہ کہ ان کی شہادت ایک اہم مقام کی نمائندگی کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں