چلی نے بیروت بندرگاہ دھماکے میں لبنان کو مطلوب شخص ہسپانیہ کے حوالے کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چلی نے لبنانی حکام کی طرف سے جاری وارنٹ کے تحت انٹرپول کو مطلوب شخص گرفتار کر لیا ہے۔ شبہہ ہے کہ مذکورہ شخص نے بیروت کی بندرگاہ پر "امونیم نائٹریٹ" داخل کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں 20 ماہ قبل تاریخ کا سب سے بڑا غیر جوہری دھماکا ہوا۔ اس الم ناک حادثے میں 215 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 6500 افراد زخموں اور جسمانی بگاڑ کا شکار ہوئے۔ دھماکے کے سبب بیروت شہر کے کئی علاقے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

مذکورہ مطلوب شخص کا نام Jorge Moreira ہے اور اس کی عمر 43 برس ہے۔ اسے بدھ کے روز چلی کے دارالحکومت سینٹیاگو میںArturo Merino Benitez بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچنے پر گرفتار کیا گیا۔ چلی کے حکام نے انٹرپول کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے اسی روز جارج کو ایک دوسرے طیارے میں سوار کر کے ہسپانیہ کے شہر میڈرڈ منتقل کر دیا۔

پرتگال کی عدالت جارج کو لبنان کے حوالے کیے جانے کے سلسلے میں مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت مقرر کی تھی تاہم بیروت حکام کی طرف سے اس پر عمل درامد سے قبل مہلت ختم ہو گئی۔

لبنانی حکام نے جنوری 2021ء میں انٹرپول سے جارج کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ جارج موزمبیق میں دھماکا خیز مواد کے کارخانے Fábrica de Explosivos de Moçambique میں ذمے دار کے طور پر ملازم تھا۔ اس نے 2013ء میں جورجیا میںSavaro نامی ایک کمپنی سے 2700 ٹن سے زیادہ امونیم نائٹریٹ خریدا۔ تاہم بحری جہازRhosus نے اس بھاری مقدار کو موزمبیق میں Beira کی بندرگاہ کے بجائے بیروت کی بندرگاہ منتقل کر دیا۔ یہ اقدام ایک دہشت گرد کارروائی کا حصہ تھا۔ اس کا آغاز مذکورہ بحری جہاز کے آلات اور نظام کو معطل کرنا تھا تا کہ امونیم نائٹریٹ کی مقدار کو اتار لینے کے بعد جہاز کو سمندر میں ڈبویا جا سکے۔ بعد ازاں 4 اگست 2020ء کو بیروت کی بندرگاہ پر خوف ناک دھماکا ہوا جو کہ شائد دانستہ تھا۔

جارج نے 2016ء میں موزمبیق میں دھماکا خیز مواد کے کارخانے کی ملازمت چھوڑ دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں