.

ایران مشرقِ اوسط میں سب سے بڑی تخریبی قوت ہے: جنرل کوریلا

امریکاخطے میں شراکت داروں کی سکیورٹی کے لیے پُرعزم ہے،امریکی سینٹ کام کے سربراہ کا ایران کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرقِ اوسط میں امریکا کے اعلیٰ فوجی جنرل نے کہا ہے کہ ایران خطے میں سب سے بڑی تخریبی قوت ہے، انھوں نے اس سے درپیش خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی تعاون کی ضرورت پرزوردیا ہے۔

امریکا کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے سربراہ جنرل ایرک کوریلا نے سعودی عرب میں العربیہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’میں ایران کو مشرقِ اوسط میں سب سے بڑی تخریبی قوت سمجھتا ہوں۔امریکا کا مؤقف یہ ہے کہ ہم جوہری ایران کی اجازت نہیں دیں گے۔تاہم ایران کے بارے میں ہمارے خدشات اس کی جوہری صلاحیت کے علاوہ بھی ہیں‘‘۔

جنرل کوریلا نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کی آلہ کار اورحمایت یافتہ ملیشیاؤں کو امریکا کے لیے دیگر خدشات قراردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایرانی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمیں اورخطے میں ہمارے سلامتی کے شراکت داروں کی جانب سے سخت کوششوں کی ضرورت ہے۔سینٹ کام اس کوشش کے لیے پُرعزم ہے۔

سماعتی دورہ

سعودی عرب میں آمد کے بارے میں پوچھے جانے پر امریکی جنرل نے کہا کہ یہ ’’سماعتی دورے‘‘ کا حصہ ہے، وہ یہاں سننے کے لیے آئے ہیں اور وہ سعودی مملکت کے مزید کئی دورے کریں گے۔ وہ سعودی عرب میں آنے سے پہلے مصر میں تھے۔

جنرل کوریلانے کہاکہ ’’خطے کا یہ دورہ... بڑی حد تک یہاں ہمارے شراکت داروں سے بصیرت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتاہے۔ایسا کرتے ہوئے میں اپنے شراکت داروں اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے خلا، خطرات اور مواقع تلاش کر رہا ہوں‘‘۔

وہ اپنے نئے منصبی کردارادا کرنے کی تیاری کے دوران میں امریکا کے اعلیٰ فوجی حکام کو خطے کے بارے میں اپنے مشاہدات کا 90 روزہ جائزہ پیش کریں گے۔

ان کے پیش رو جنرل فرینک میکنزی نے 2019 سے رواں سال اپریل تک اس عہدے پر خدمات انجام دی تھیں اور ان کی جگہ 55 سالہ جنرل کوریلا کو سینٹ کام کی باگ ڈور سونپی گئی تھی۔وہ اپنے نئے کردارسے قبل ریاست شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں امریکی فوج کی جوابی فورسزسمیت 18ویں ایئربورن کور کی قیادت کر رہے تھے۔

جنرل کوریلا نے العربیہ سے امریکا اورسعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کے بارے میں بھی بات کی اور انھیں تزویراتی تعلقات اور’’مشرق اوسط میں ہماری حکمت عملی کی بنیاد رکھنے والا‘‘قرار دیا۔

واشنگٹن اور الریاض نے حال ہی میں سلامتی، تکنیکی اور تعلیمی شعبوں سمیت 77 سالہ دو طرفہ تعلقات کا جشن منایا ہے۔

امریکی جنرل نے کہا کہ’’میں آنے والے مہینوں اور برسوں میں کئی بارمملکت میں واپس آؤں گا۔ان دوروں میں سعودی عرب اورخطے کے ساتھ امریکی عزم کا مظاہرہ کروں گا‘‘۔انھوں نے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں اور امریکا ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے۔

آبی گذرگاہوں کی سلامتی کاعزم

انھوں نے کہا کہ مشرقِ اوسط میں اپنے فوجی شراکت داروں کے ساتھ امریکا کا عزم ’’غیرمتزلزل اورآہنی‘‘ ہے۔ ہم خطے کے لیے پُرعزم رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔

گذشتہ ماہ امریکا نے15 امریکی اور بین الاقوامی فوجی اہلکاروں کے ساتھ ایک نئی بحری ٹاسک فورس تشکیل دی تھی۔یہ اہلکار مشترکہ میری ٹائم فورسز (سی ایم ایف) کے رکن ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔نئی فورس یمن اورخلیج کے دیگر حصوں میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور بحری قزاقی کو نشانہ بنائے گی۔ان ہتھیاروں سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں شہری علاقوں کو مسلسل خطرہ لاحق ہے۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے حالیہ مہینوں میں اسمگل شدہ ہتھیاروں کی مدد سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے جو امریکا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ ہمیں حوثیوں کی کارروائیوں کی حمایت کے لیے سمندرکے ذریعے جدید روایتی اسلحہ کی اسمگلنگ پر تشویش لاحق ہے۔اس لیے شاہی سعودی بحری فورسز کے ساتھ اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں میرے لیے توجہ کا مرکز ثابت ہوں گی۔

ان کا کہنا تھاکہ مشرق اوسط میں آبی گزرگاہیں توانائی اور تجارت کے بڑے ٹرانزٹ روٹس بھی ہیں،اس لیے محفوظ آبی گزرگاہوں کو برقراررکھنا ہماری اور ہمارے شراکت داروں کی اہم ذمے داری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں