امریکہ بحیرۂ اسود میں فوجی اڈے بنانے میں مصروف ہے: یوکرینی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین اور روس کے مابین لڑائی کے تناظر میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب روس کے حامی حکام نے الزام لگایا ہے کہ یوکرین کو ڈھال بنا کر امریکہ بحیرۂ اسود کے مقابل فوجی اڈے قائم کر رہا ہے۔

یوکرین میں کھیرسن ریجن کی فوجی انتظامیہ کے ڈپٹی کمانڈر کیرل سٹریموسوف نے دعویٰ کیا ہے ’’کہ امریکہ نے بحیرۂ اسود کے مقابل جنوبی علاقے میں فوجی اڈے بنائے ہیں۔‘‘

’’کیئف کی در پردہ مدد‘‘

کیرل سٹریموسوف نے روسی خبر رساں ایجنسی ’’اسپوٹینک‘‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ’’کہ کیئف کی مدد کا بہانہ بنا کر امریکیوں نے بحیرۂ اسود کے ساحل پر نیول اڈوں کی مرمت اور نئے فوجی ٹھکانے بنائے ہیں۔‘‘

بحیرۂ اسود  ۔ شٹرسٹاک
بحیرۂ اسود ۔ شٹرسٹاک

انہوں نے مزید کہا ’’کہ ان فوجی اڈوں میں ایک ٹھکانہ پروماسیکی جزیرے میں نیکولاف ریجن کے اوکاکوف شہر اور بحیرۂ اسود کے سامنے دریائے نیپر کے دہانے بنایا گیا ہے۔ یہاں مقیم یوکرینی شہریوں کو امریکہ آج بھی جرمن نازیوں سے تشبیہ دیتا ہے جو کھیرسن پر مسلسل گولہ باری کر رہے ہیں۔

مسٹر سٹریموسوف سمجھتے ہیں کہ یوکرینی بحریہ کے اڈوں کا محض نام استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کی تعمیر اور بعد ازاں کی جانے والی مرمت امریکیوں کی کوارڈی نیشن سے ہوتی رہی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی ’’کہ روسی کارروائی سے امریکیوں کے بحیرۂ اسود میں قدم جمانے اور وہاں امریکی رٹ نافذ کرنے کی راہیں مسدود ہوں گی۔‘‘

جزیرہ نما کریمیا سے قربت

یاد رہے کھیرسن کا علاقہ جزیرہ نما کریمیا کے قریب واقع ہے۔ ماسکو نے 2014 میں کریمیا کو روس میں ضم کر لیا تھا۔ یوکرین میں فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد سے کریمیا اکلوتا اہم شہر تھا جس پر روس نے مکمل کنڑول حاصل کیا۔ حال ہی میں روس نے جنوب مشرقی یوکرین کے شہر ماریوپول پر قبضے سے پہلے وہاں ازوستال سٹیل پلانٹ پر ہاتھ صاف کیا۔

کریمیا ۔ اشٹرسٹاک
کریمیا ۔ اشٹرسٹاک

مغربی ہمسایہ ریاست [یوکرین] پر 24 فروری کو حملے کے بعد سے ماسکو کئی مرتبہ ایسے الزامات کا اعادہ کر چکا ہے۔ یوکرین کی سرزمین پر ہونے والی کارروائیوں کو ماسکو کئی مرتبہ پراکسی جنگ سے تعبیر کر چکا ہے۔

روس ان باتوں کے ذریعے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ فوجی وسائل فراہم کر کے امریکہ ہر طرح سے کیئف کی سیاسی قیادت کا ساتھ دے رہا ہے۔ یوکرین پر بھی امریکی ایجنڈے کو فروغ دینے کا الزام بھی عاید کیا جا رہا ہے۔

روسی فوج کو بحیرۂ اسود پر غلبہ حاصل ہے۔ اس کے جنوبی حصے میں آزوف شہر اور بحیرہ اسود کے مقابل یوکرین کی کئی بندرگاہیں بھی واقع ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں