متنازعہ سمندری علاقے میں اسرائیل کی گیس ڈرلنگ کو جارحیت تصور کیا جائے گا: لبنان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان نے اسرائیل کے ساتھ ملحقہ سرحد پر موجود متنازعہ علاقے میں اسرائیل کی جانب سے قدرتی گیس نکالنے کے لئے بحری جہاز بھیجنے کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیل کسی بھی جارح قدم اٹھانے سے باز رہے۔

لبنانی صدر میشل عون نے لندن میں قائم کمپنی Energean کے جہاز کی آمد کے موقع پر کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان کی سرحد پر واقع متنازعہ علاقے سے گیس نکالنے کو جارحیت تصور کیا جائے گا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ جس جگہ بحری جہاز کو بھیجا گیا ہے وہ متنازعہ جگہ نہیں ہے بلکہ اسرائیل کے معاشی زون کا حصہ ہے۔

لبنان کے صدارتی دفتر کے مطابق صدر عون نے نگران وزیر اعظم نجیب میقاتی کے ہمراہ اسرائیل کی کشتی کے متنازعہ علاقے میں داخلے سے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے اور اس کے علاوہ لبنانی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے کر صحیح معلومات اکٹھی کریں۔

میشل عون کے مطابق جنوبی سمندری حدود سے متعلق ہمارے مذاکرات جاری ہیں اور اس دوران اسرائیل کی جانب سے اس علاقے میں کوئی سرگرمی جارحیت ہے۔

اسرائیلی حکومت نے لبنانی صدر کے بیان پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔

اسرائیل کی وزیر توانائی کارین ایلاحرار نے علاقے میں برطانوی کشتی کی آمد کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ کشتی جلد از جلد کام شروع کر دے گی۔

امریکا نے سنہ 2000 میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے بلاواسطہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں