اہل غزہ کے لیے قابض اتھارٹی کے اجازت ناموں میں اضافہ

زیر محاصرہ علاقے کے باہر مزید دوہزار فلسطینیوں کو کام کاج کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی قابض اتھارٹی نے غزہ کے رہائشیوں کے لیے اسرائیل میں کام کرنے کے اجازت ناموں میں دوہزار اجازت ناموں کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس طرح اسرائیلی محاصرے میں غزہ کی اس گنجان آبادی سے باہر اور اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں جانے کے لیے مجموعی اجازت ناموں کی تعداد 14000 ہو جائے گی۔

یہ فیصلہ اسرائیلی وزیر دفاع نے مقامی طور پر سکیورٹی کی صورت حال کے بارے میں جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔ واضح رہے اسرائیلی وزارت دفاع ہی بالواسطہ طور پر فلسطینی علاقوں میں سویلین سے متعلق امور کو دیکھتی ہے۔

جب سے حماس نے الیکشن 2006 میں اکثریت کے بعد غزہ کی باگ ڈور سنبھالی ہے اسرائیل نے غزہ کی پٹی کا مسلسل اور سخت محاصرہ کر رکھا ہے۔اس لیے غزہ کا کوئی رہائشی اسرائیلی اجازت نامے کے بغیر غزہ سے اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں مں محنت مزدوری یا تجارت کے لیے بھی نہیں جا سکتا۔

صرف غزہ اور مصر کے درمیان رفح کی راہداری اس محاصرے اور اسرائیلی دسترس سے قدرے محفوظ ہے۔ جسے غزہ کے لوگ نسبتا آسانی سے غزہ سے باہر آنے جانے کے لیے استعال کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ بھی اکثر بند ہوتی رہتی ہے۔

عالمی بنک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قابض اتھارٹی کی طرف سے مسلسل محاصرے کی وجہ سے اہل غزہ کی بیس لاکھ کی آبادی میں بے روز گاری کی شرح 48 فیصد ہے۔ کہ انہیں روزگار کے لیے بھی غزہ سے نکلنے کے لیے اسرائیلی اجازت ناموں کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان حالات میں محدود تر فلسطینیوں کو اجازت ناموں کے ساتھ اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں جانے کی سہولت ہزاروں لوگوں کے لیے '' لائف لائن '' کی حیثیت اختیار کر چکی ہے کہ اسرائیل میں تعمیراتی کاموں اور باغات میں روزگار مل جاتا ہے۔ مگر پچھلے مئی کے دوران اسرائیلی اتھارٹی نے اس راستے کو صرف دو ہفتوں کے لیے کھولا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں