.

دبئی کے ہسپتال میں ٹی ٹی پی نام کی بیماری کا کامیاب علاج

متحدہ عرب امارات میں بھارتی تارک وطن ہرکیش اس بیماری میں مبتلا پہلا مریض تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقامی ہسپتال میں ایک ایسے بھارتی تارک وطن لال تیلو رام ہرکیش کا علاج کامیابی سے آگے بڑھا ہے۔ مریض اب صحت یاب ہو چکا ہے۔ مریض کے بقول اسے دوبارہ زندگی مل گئی ہے۔

بھارتی شہری کو ایسی بیماری کا سامنا تھا جو بہت کم لوگوں کو لاحق ہوتی ہے۔ اب تک کے اعدادو شمار کے مطابق یہ تقریبا دس لاکھ لوگوں میں سے تین یا چار لوگوں کو ہو سکتی ہے۔

لال تیلو رام ہرکیش کے علاج کے دوران لیبارٹری میں کرائے گئے مختلف قسم کے ٹیسٹوں کے بعد اس بیماری کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ تھرومبوٹک تھرومبوسائیٹو فینیا پرپرا ( ٹی ٹی پی) نام کی بیماری ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق یہ بیماری جسے عرف عام میں ٹی ٹی پی کہا جاتا ہے ایک طرح سے کم لاحق ہونے والی بیماری ہے۔ اس میں مبتلا ہو جانے والے فرد کے خون میں لوتھڑے بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ خون کی چھوٹی نالیوں کے ذریعے پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں۔ خصوصا جسم کے اہم اعضا میں بھی ان کی رسائی ہو جاتی ہے اور خون کی ترسیل پر اثرانداز ہونے لگتے ہیں۔

ہسپتال میں غیر معمولی عوارض اور ایمرجنسی امور کو دیکھنے کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر اشرف عبدالرحمان نے بتایا "اس عارضے کی وجہ سے اگر خون کی سپلائی کو زیادہ متاثر کر دیں تو دماغ، گردوں اور دل کو بھی نقصان پہنچاتے ہوئے ان اعضا کی فعالیت کو متاثر کرتے ہیں حتی کہ جان کو بھی خطرہ بھی لاحق کر سکتے ہیں۔"

ڈاکٹر اشرف عبدالرحمان نے کہا "جب اس مریض کے ابتدائی ٹیسٹ کرائے گئے تو اس وقت یہ کیال تھا کہ اس کا لبلبہ کام نہیں کر رہا ہے۔ لیکن ٹیسٹ رپورٹس میں خون میں سرخ خلیوں اور پلیٹ لیٹس کے کم آنے سے اندازا ہو کہ مسئلہ لبلبے سے متعلق نہیں ہے۔ اس کی بعد تشخیص ہوئی کہ مریض ٹی ٹی پی کے عارضے کا شکار ہے۔ ایسے مریض کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔"

تشخیص کرنے کا چیلنج اس معاملے میں سب سے زیادہ تھا، ایک تو اس بیماری کی علامات حفیف نوعیت کی ہوتی ہیں، دوسرا یہ کہ ہمارے ہاں اس طرح کے ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریاں بہت کم ہیں۔" اب بھارت کے علاقے ہماچل پردیش سے تعلق رکھنے والے ہرکیش نامی مریض کو صحت یابی میں اٹھارہ دن لگے ہیں۔

واضح رہے ہرکیش نامی بھارتی دبئی کی ایک فیکٹری میں بطور فورمین کام کرتا ہے، نے اپنی اس تکلیف کے بارے میں بتایا "میں نے تقریبا دس دن درد برداشت کرتا رہا۔ لیکن جب مجھے یہ بتایا گیا کہ مجھے ایک ایسی بیماری ہے جو بہت کم لوگوں کو ہوتی ہے تو میں خوفزدہ ہو گیا۔ مجھے اب لگتا ہے دوسری زندگی ملی ہے۔"

ڈاکٹروں کے مطابق ابھی کچھ سوالوں کے جوابات باقی ہیں۔ کہ ٹی ٹی پی نام کی بیماری کیوں ہوتی ہے، یہ کسی مریض کو دوبارہ کیوں ہو جاتی ہے اور اس سے بچا کیسے جا سکتا ہے؟ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر اس بیماری میں علاج نہ مل سکے تو 95 فیصد مریضوں کی جان جا سکتی ہے۔ تاہم علاج کی صورت میں 80 سے 90 فیصد لوگ صحتیاب ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں