.

امریکہ میں انسانی بنیادوں پر افغانستان کے زلزلے سے متاثرین کی مدد پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ افغانستان میں تباہ کن زلزلے سے افغان عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا اور یہ قدرتی آفت موجودہ سنگین انسانی بحران کی صورت حال کومزيد پيچيدہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ متاثرین تک امداد کیسے پہنچائی جائے?

افغانستان میں منگل اور بدھ کی شب زلزلے کے باعث ہونے والی تباہی کے نتیجے میں لگ بھگ 1500 افراد جاں بحق اور 2000 کے قریب لوگ زخمی ہو گئے تھے۔ متعدد گھر وں کے اس زلزلے میں منہدم ہونے اور پہلے سے خراب سڑکوں میں توڑ پھوڑ اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور کئی علاقوں تک رسائئ مشکل ہو گئی ہے۔

طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ،جو شاذ ہی منظر عام پر آتے ہیں، بین الاقوامی برادری اور انسانی ہمدردی کے تحت امداد پہنچانے والی تنظیموں سے اپیل کہ ہے کہ وہ بہت بڑی آفت سے دوچار افغان عوام کی مدد کریں اور تمام ممکنہ کوششیں بروئے کار لائیں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے افغانستان میں تباہ کن زلزلے کے متاثرین کے لیے دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ ان تمام خاندانوں کے لیے ہمدردی رکھتا ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس زلزلے میں کھو دیا ہے۔

محکمہ خارجہ سے جاری بیان مٰیں انٹونی بلنکن نے مزید کہا ہے کہ افغانستان کے لوگوں کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور یہ قدرتی آفت موجودہ سنگین انسانی بحران کی صورت حال کومزيد پيچيدہ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اتحادی انسانی ہمدردی کی بنياد پر امداد کے ساتھ پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں پہنچ گۓ ہیں، اور وہ متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے طبی ٹیمیں بھیج رہے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ متاثرين تک مزيد امداد کيسے پہنچائی جاۓ۔؟

’’ اس مشکل وقت ميں ہم افغانستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے میں بین الاقوامی برادری کی قیادت کرتے رہیں گے‘‘۔

افغان صوبے پکتیکا سے آنے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زخمیوں کو متاثرہ مقامات سے ہیلی کاپٹروں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

افغانستان کی سرکاری نیوز ایجنسی' باختر' کی رپورٹ کے مطابق امدادی کارکن ہیلی کاپٹروں کی مدد سے متاثرہ مقامات تک پہنچ رہے ہیں۔ تاہم یہ معلوم نہٰیں ہو سکا کہ آیا متاثرہ علاقوں میں بھاری مشینری بھی بھجوائی جا رہی ہے یا نہیں۔

اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے نائب مندوب خصوصی رمیض ال اکبروف نے بتایا ہے کہ علاقے میں کم از کم دو ہزار مکانات منہدم ہو گئے ہیں جہاں ایک اندازے کے مطابق ہر گھر میں اوسطاً سات سے آٹھ لوگ رہائش پذیر ہوتے ہیں۔

پہاڑوں میں گھرے دیہاتوں سے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی اطلاعات خاصی تاخیر سے سامنے آ رہی ہیں۔ سڑکیں جن کی خراب حالت کے سبب اچھے دنوں میں سفر دشوار ہوتا تھا، اب مکنہ طور پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مزید توڑ پھوڑ کا شکار ہو گئی ہوں گی۔

زلزلے کے جھٹکے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت کوہاٹ، مالاکنڈ، سوات، بونیر اور دیگر شہروں میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔ تاہم پاکستان سے فوری طور پر ہلاکتوں اور مالی نقصان کی کوئی معلومات نہیں آئیں۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان میں زلزلے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے متعلقہ ادارے مشکل وقت میں افغانستان کی امداد کے لیے کام کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں 2002 میں چھ اعشاریہ ایک شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ایک ہزار افراد جاں بحق ہوئے تھے جب کہ اسی شدت کا زلزلہ 1998 میں بھی آیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 4500 افراد جاں بحق ہوئے تھے

مقبول خبریں اہم خبریں