لیبیا:طرابلس میں قائم صدارتی کونسل کا بحران کے خاتمے کے منصوبے کااعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لیبیا کی طرابلس میں قائم صدارتی کونسل نے منگل کے روز ملک کو درپیش نئے سیاسی بحران سے نکالنے اور انتخابات کرانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ’’لیبیا کے عوام کے جائز مطالبات اورتبدیلی کی خواہش کے جواب میں صدارتی کونسل نے جاری سیاسی تعطل کودور کرنے کے لیے ایک عمومی فریم ورک پراتفاق کیا ہے‘‘۔

کونسل نے تفصیل فراہم نہیں کی لیکن کہا کہ یہ منصوبہ ’’لیبیا کے قومی اتحاد کو محفوظ رکھے گا،جنگ کے امکان کو ختم کرے گا اورغیرملکی مداخلت کا بھی خاتمہ کرے گا‘‘۔

تین رکنی کونسل کے نائب سربراہ عبداللہ اللافی کو کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سیاسی اداکاروں کے ساتھ فوری مشاورت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی تاکہ انتخابات کے ذریعے عبوری مرحلے کے خاتمے کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔

2011ء میں نیٹو کی حمایت یافتہ مسلح بغاوت کے نتیجے میں صدرمعمرقذافی کی مطلق العنان حکومت کا تو خاتمہ ہوگیا تھا لیکن اس کے بعد سے لیبیا مختلف بحرانوں کا شکار ہے اور ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے فریقین کے درمیان کوئی جامع لائحہ عمل طے نہیں ہوسکا ہے۔

لیبیا میں بڑے پیمانے پر لڑائی کے آخری دور کے بعد اقوام متحدہ کی سرپرستی میں امن عمل شروع کیاگیا تھا اور صدارتی اور قانون سازاسمبلی کے انتخابات کے دسمبر2021 میں انعقاد پراتفاق کیا گیا تھا لیکن متنازع امیدواروں اوران کی انتخابی عمل میں شرکت کے قواعد پر شدید اختلافات کی وجہ سے انھیں غیرمعیّنہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا۔

بیان کے مطابق صدارتی کونسل کا یہ اقدام جو خود اقوام متحدہ کی ثالثی میں امن عمل کی پیداوار ہے، لیبیا کے سیاسی اداکاروں کی جانب سے بحران کا حل تلاش کرنے اور انتخابات ’’جلدسے جلد‘‘کرانے کے لیے مداخلت کے بار بارتقاضے کے جواب میں سامنے آیا ہے۔

گذشتہ جمعہ سے لیبیا کے متعدد شہروں میں پست معیار زندگی، بجلی کی طویل بندش، افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح اورگیس اسٹیشنوں پرلامتناہی قطاروں پر مشتعل مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔

عوامی غیظ وغضب کا رُخ بڑی حد تک براہ راست دو حریف حکومتوں اورپارلیمنٹ کے دو ایوانوں پر ہے جسے ملک کی تقسیم کی علامت کے طور پردیکھا جاتا ہے۔مظاہرین نے صدارتی کونسل کو بھی نہیں بخشا ہے اور اس پریہ الزام لگایا ہے کہ وہ تعطل کو ختم کرنے کے لیے کافی کام نہیں کررہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں