اسلامی قاہرہ میں ایک پنکھے کے نیچے احمد عثمان اپنے آباؤ اجداد کی مثال کی پیروی کرتے ہوئے، جو کعبہ کا غلاف بنایا کرتے تھے قرآنی آیت کو سونے کے دھاگوں سے سیاہ کپڑے پر کڑھائی کر رہے ہیں۔
ایک سو سال قبل عثمان خاندان کے تیار کردہ غلاف کعبہ کولے کر ایک بڑے جلوس میں مکہ معظمہ بھیجا گیا تھا۔
آج فاطمی قاہرہ کے قلب میں خان الخلیلی کی ایک گلی میں اپنی دکان میں مصروف 51 سالہ عثمان اپنے باقی کاریگروں کی طرح خام مال کی مہنگی قیمت، سیاحت میں نمایاں کمی کا شکار ہے۔ مصریوں کی قوت خرید میں گراوٹ کے ساتھ ساتھ دوسرے پیشوں سے زیادہ آمدنی ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کا کوئی بھی ہنر سیکھنے میں دل نہیں لگتا۔
سنہ 1924 میں عثمان کے دادا نے غلاف کعبہ کی تیاری کا عظیم اعزاز حاصل کیا، جس پر سونے یا چاندی کے پتوں سے کڑھائی کی جاتی ہے اور ہر سال حج کے موسم میں اسے تبدیل کیا جاتا ہے۔
عثمان یاد کرتے ہیں کہ غلاف کعبہ کی تیاری "ایک مقدس رسم تھی۔"
وہ مزید کہتے ہیں کہ سال بہ سال دس کاریگر چاندی کے انتہائی پتلے دھاگوں سے کسوا[غلاف کعبہ] کی کڑھائی کرتے ہیں جس سے 10 سے 20 سینٹی میٹر کڑھائی پورے دن میں مکمل کرنا ہوتی ہے۔
مصر اور غلاف کعبہ
کئی سال سے غلاف کعبہ کو مختلف اسلامی ممالک کی جانب سے تحفے کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ تاکہ اس غلاف کی تیاری کا اعزاز حاصل کیا جا سکے۔ یہ غلاف 658 مربع میٹرہے اور اس پر قیمتی پتھروں سے بھی کڑھائی کی گئی ہے۔
تیرہویں صدی تک مصری کاریگروں نے کسوا کی تیاری اور کڑھائی کا کام کیا اور حکام اس کے بعد مکہ کے سفر کا اہتمام کرتے۔
قافلہ جس میں محافظ اور مذہبی رہ نما شامل ہوتے تھے کا استقبال مصریوں کی طرف سے زبردست داد و تحسین کے ساتھ کیا گیا جو اپنے گھروں کی بالکونیوں سے ان پر گلاب کے پانی کا چھڑکاؤ کرتے۔
لیکن 1927 سے غلاف کعبہ کی تیاری مکہ منتقل ہونے لگی۔ 1962 کے بعد غلاف کعبہ سعودی عرب کے اندر ہی تیار ہونے لگا تھا۔
ملازمت حاصل کرنے میں ناکام رہنے والےاحمد عثمان کے والد نے اپنے آپ کو فوجی نشان کی کڑھائی کے لیے وقف کر دیا اور ان کے گاہکوں میں نمایاں شخصیات تھیں۔ وہ فخر سے بتاتے ہیں ہے کہ انہوں نے صدور جمال عبدالناصر اور انور سادات کی فوجی وردیوں پر کڑھائی کی تھی۔
یہاں تک کہ انہوں نے قاہرہ میں اس وقت روس کے موجودہ صدر ولادیمیر پوتن کے ایک روسی سکیورٹی افسر کے نشان کی مرمت بھی کی۔
احمد عثمان کے مطابق عثمانی خاندان بنیادی طور پر "کپڑے پر قرآنی آیات کی کڑھائی" کے ساتھ ساتھ غلاف کعبہ کے ماڈل بنانے میں مہارت رکھتا تھا۔
"آج ہمارے زیادہ تر گاہک غلاف کعبہ کی ایک کاپی چاہتے ہیں"۔
غلاف کعبہ کی نقل کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی قیمت 100 مصری پاؤنڈز 5.3 ڈالر سے شروع ہوتی ہے، لیکن کچھ تیار کردہ مصنوعات کی قیمت ہزاروں ڈالر ہوسکتی ہے۔
CoVID-19 وبائی بیماری کے آغاز کے بعد سے وہ اب ایک مہینے میں دو ٹکڑوں سے زیادہ فروخت نہیں کرتا ہے جب کہ اس سے پہلے وہ ہر روز ایک ٹکڑا فروخت کرتا تھا۔
یہاں تک کہ اگر کچھ سیاح خان الخلیلی کی طرف لوٹتے ہیں وہ عثمان کے مطابق اپنے پیسوں کے بارے میں پہلے سے زیادہ محتاط ہیں کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ عالمی وبا کے بعد اب دنیا یوکرین اور روس کی جنگ سے متاثر ہے۔
اس کے باوجود عثمان اپنی ورکشاپ میں اپنے خاندان کے ورثے کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں جو سیاہ کپڑوں پر سونے کے دھاگوں سے قرآنی آیات کی کڑھائی سے اسے مزین کرتے ہیں۔
یہاں نسلوں کو ایک صدی سے زائد عرصے سے یہ ہنر وراثت میں ملا ہے جو ’تقصیب‘ یعنی چھڑی سے ماخوذ ہے۔ اس کے دھاگے چاندی اور سونے کے دھاگوں کے درمیان خالی جگہ کو بھرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔