شنزو آبے کے قتل کے بعد جاپان کی حکمران جماعت نے پارلیمان میں اکثریت حاصل کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

جاپان کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے مطابق حکمران اتحاد نے پارلیمان کے ایوان بالا میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ یہ انتخابات سابق وزیر اعظم شنزو آبے کوگولی مار کر ہلاک کرنے کے تین دن بعد ہوئے۔

جاپان کے آنجہانی سابق وزیر اعظم شنزو آبے کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے اتوار کے روز ہونے والی پارلیمانی ووٹنگ میں مکمل اکثریت حاصل کر لی ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حکمراں جماعت ایل ڈی پی نے ایوان بالا کی 125 نشستوں میں سے نصف سے زیادہ، 63 نشستیں حاصل کر لی ہیں۔

حکمران قدامت پسند بلاک میں ایل ڈی پی کی اتحادی جماعت کومیتو بھی شامل ہے اور اب دونوں کی ملا کر اسمبلی میں 75 نشستیں ہو گئی ہیں۔

اس کامیابی پر وزیر اعظم فومیو کشیدا نے کہا، "یہ اہم ہے کہ ایک ساتھ مل کر ان انتخابات میں ہم اس وقت فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جب تشدد نے انتخابات کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔"

آبے کے قتل کے بعد ایل ڈی پی کو اپنی حمایت میں اضافے کی توقع تھی۔ 67 سالہ ایک ووٹر ساکائے فوجیشیرو نے اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات چیت میں کہا، "ہم نے مسٹر آبے کو کھو دیا ہے۔ میں چاہوں گا کہ ایل ڈی پی زیادہ ووٹ حاصل کرے تاکہ وہ ملک کو مستحکم طریقے سے چلا سکیں۔"

گذشتہ ہفتے ہی رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوا تھا کہ ایل ڈی پی اکثریت کے لیے لازمی نصف نشستوں سے بھی کم سیٹوں پر جیت رہی ہے۔ اس کے بعد ایک تازہ ترین پولز نے یہ پیش گوئی کی کہ اتوار کے روز ہونے والے ووٹ سے فومیو کشیدا کی اقتدار پر گرفت اور مضبوط ہو جائے گی۔

اس کامیابی سے وہ آئندہ تین برس کے لیے مزید بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔ تاہم اس کے باوجود قدامت پسند وزیر اعظم کو بڑھتی ہوئی قیمتوں اور توانائی کی قلت جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ موسم گرما کی ابتدائی دنوں میں گرمی کی شدید لہر نے بجلی کے بحران کو پہلے کھڑا کر دیا ہے۔

سابق وزیر اعظم شنزو آبے کو گذشتہ ہفتے انتخابی مہم کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا اور اس حوالے سے جاپانی حکام نے مہم کے دوران ان کی "سکیورٹی اور حفاظتی اقدامات میں دشواریوں" کا اعتراف کیا ہے۔ پولیس نے اس کی جامع تحقیقات کا بھی وعدہ کیا ہے۔

نارہ کے مقامی پولیس سربراہ ٹومو آکی اونیزوکا نے ہفتے کے روز ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا، ’’سن 1995 میں جب سے میں ایک پولیس افسر بنا ہوں ان تمام برسوں میں، اس سے بڑا کوئی افسوس یا کوئی پچھتاوا نہیں ہوا۔"

پولیس نے قتل کے ملزم کا سامان ضبط کرنے کا اعلان کیا، جس میں ایک موٹر سائیکل اور ایک گاڑی شامل ہے۔ 41 سالہ قاتل نے بتایا کہ اس نے حملہ کرنے میں استعمال ہونے والے گھر میں تیار کیے گئے اس ہتھیار کا تجربہ کرنے کے لیے گاڑی سے حاصل شدہ لکڑی کے تختوں کو استعمال کیا۔

اس نے یہ بھی بتایا کہ حملے کی منصوبہ بندی میں مہینوں کا وقت لگا۔ شوٹر نے یہ بھی کہا کہ آبے کے ایک خاص مذہبی گروپ سے مبینہ طور پر روابط تھے اور اسی وجہ سے اس نے ان پر حملہ کیا۔ ملزم نے اسی مذہبی گروپ کو اپنی ماں کی مالی پریشانیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

عالمی رہنماؤں کی تعزیت

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن جی 20 میٹنگ کے سلسلے میں خطے میں ہیں اور پیر کو وہ ٹوکیو پہنچیں گے تاکہ وہ ذاتی طور پر آبے کی موت پر اپنے ملک کی جانب سے تعزیت پیش کر سکیں۔

جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک بھی اس وقت جاپان میں ہیں۔ انہوں نے اتوار کو ناگاسا کی میں جوہری حملے کی یادگار کا دورہ کیا اور وہ بھی پیر کو ٹوکیو میں ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size