ترک صدررجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ اگر فن لینڈ اور سویڈن نے انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدے پورے نہ کیے تو ترکی ان دونوں کی معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی رُکنیت کے لیےدرخواست منجمد کر دے گا۔
ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق صدر ایردوآن نے کہا:’’میں ایک بارپھرباورکرانا چاہتا ہوں کہ اگر سویڈن اور فن لینڈ نے نیٹو کی رکنیت کے لیے ہماری شرائط پوری نہیں کیں تو ہم اس عمل کو روک دیں گے‘‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ’’سویڈن فی الحال اچھا امیج نہیں دکھا رہا ہے‘‘۔
سویڈن اور فن لینڈ نے نیٹو کی رکنیت کے ذریعے اپنی سلامتی بڑھانا چاہتے ہیں اور یوکرین پر روس کے حملے کے ردعمل میں نیٹو نے کئی دہائیوں سے جاری فوجی عدم صف بندی کا خاتمہ کیا ہے اور ان دونوں ممالک کو رکنیت دینے کی پیش کش کی ہے۔
ترکی نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ اسے دونوں ممالک کے نیٹو میں شمولیت پراعتراضات ہیں۔اس نے ان پر ترکی کے کرد عسکریت پسندوں یعنی کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی حمایت کا الزام لگایا گیا تھا۔ترکی پی کے کے کو دہشت گردتنظیم سمجھتا ہے اور وہ سویڈں سے بالخصوص فتح اللہ گولن کے پیروکاروں سمیت درجنوں مشتبہ ’’دہشت گردوں‘‘کو حوالے کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔ان پرانقرہ نے 2016 میں ناکام بغاوت کی کوشش کا لزام لگایا تھا۔
تاہم تینوں ممالک نے گذشتہ ماہ ایک معاہدے پردست خط کیے تھے۔اس میں فن لینڈ اورسویڈن کی نیٹو کی رُکنیت کے لیے درخواست کی حمایت کی تصدیق کی گئی تھی اورانھوں نے سلامتی اور انسداد دہشت گردی میں تعاون پر اتفاق کیا تھا۔