ایرانی سپریم لیڈرجوہری معاہدے کی حمایت کریں گے؟برطانوی انٹیلی جنس چیف کا اظہارِتشکیک
برطانیہ کے انٹیلی جنس چیف نے اس شک کا اظہارکیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای میراتھن مذاکرات کے باوجود 2015 میں طے شدہ جوہری معاہدے میں اپنے ملک کی واپسی کی حمایت کریں گے۔
برطانوی سراغرساں ادارے ایم آئی 6 کے سربراہ رچرڈ مور نے ایسپین سکیورٹی فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر ہم کسی معاہدہ تک پہنچ سکتے ہیں تو شاید یہ ایرانی جوہری پروگرام کو محدود رنے کا بہترین ذریعہ ہوسکتا ہے لیکن مجھے یقین نہیں کہ ہم وہاں تک پہنچیں گے‘‘۔
انھوں نے امریکی ریاست کولوراڈو میں منعقدہ کانفرنس میں کہا:’’میں نہیں سمجھتا کہ ایران کے سپریم لیڈرکوئی معاہدہ طے کرنا چاہتے ہیں مگر ایرانی مذاکرات ختم بھی نہیں کرنا چاہیں گے تاکہ وہ کوئی سودے بازی کرسکیں‘‘۔
مسٹرمورکا مزید کہنا تھا کہ ’’میرے خیال میں یہ معاہدہ بالکل میزپرہے۔یورپی طاقتیں اورامریکی انتظامیہ اس بارے میں بہت واضح ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ اس معاملے پر چینی اور روسی اسے روک دیں گے۔البتہ میں نہیں سمجھتا کہ ایرانی ایسا چاہتے ہیں‘‘۔ان کی ملک سے باہر کسی عوامی تقریب میں یہ پہلی چہرہ نمائی ہے۔
صدر جو بائیڈن ایران سے 2015ء میں طے شدہ معاہدے کی بحالی کے حامی ہیں۔اس پر سابق امریکی صدربراک اوباما کے دور میں بات چیت کی گئی تھی مگر تین سال کے بعد صدرڈونالڈ ٹرمپ نے اسے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا تھا اور ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔
ویانا میں گذشتہ سواایک سال سے اس معاہدے کی بحالی کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت ہورہی ہے لیکن یہ ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب کوامریکا کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے اورپہلے پابندیاں ہٹانے کے مطالبے پراصرار کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے۔
امریکا کے علاوہ برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس اس معاہدے کےفریق تھے۔اس کوباضابطہ طور پر مشترکہ جامع لائحہ عمل کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس کے تحت ایران نے پابندیوں سے نجات کے وعدوں کے بدلے میں جوہری سرگرمیوں پرقدغن لگادی تھی اور اپنا حساس جوہری کام بند کردیا تھا۔
واضح رہے کہ رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای1989 سے شیعہ مذہبی ریاست کی قیادت کر رہے ہیں، وہ امریکا کی مخاصمت کے لیے جانے جاتے ہیں۔امریکاکی مخالفت ہی 1979ء میں مغرب نوازشاہ ایران کے خلاف برپاشدہ انقلاب کا ایک مرکزی اصول تھا۔
انھوں نے 2015 میں جوہری معاہدے طے کرنے والے صدر حسن روحانی کی اصلاح پسند حکومت کے مذاکرات کاروں کی بادل نخواستہ حمایت کی تھی لیکن سابق صدر ٹرمپ کی اس سے یک طرفہ دستبرداری اورایران پر وسیع پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو سخت گیروں نے امریکا کی بدنیتی قراردیا تھا۔