ناروے کے ایک فوٹوگرافر نے ایک حیرت انگیز قدرتی مظہر کی تصاویر کی ایک سیریز کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا ہے جو عام طور پر سردیوں میں ہوتا ہے۔ یہ منظر عموما اس وقت دیکھا جا سکتا ہے جب سورج افق پر کم بلندی پر ہوتا ہے۔
فوٹوگرافر سوین نورڈرم کے فالورزایک غیر معمولی نظری وہم سے حیران رہ گئےجس کا دورانیہ تقریبا 20-30 منٹ تک جاری رہا۔
’سی این این‘ کے مطابق’سن ڈاگ‘ رجحان، جس کا مطلب ہے "جھوٹا سورج" فضا میں برف کے کرسٹل کے ذریعے سورج کی روشنی کے انعطاف کی وجہ سے ہالوں[دائروں] کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔
امریکا میں نیشنل ویدر سروس کی ویب سائٹ نے وضاحت کی کہ ’جھوٹا سورج‘ عام طور پر سورج کے بائیں، دائیں، یا دونوں اطراف سے 22 ڈگری روشنی کے رنگین دھبوں کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔
"جھوٹا" یا خیالی سورج عام طور پر افق سے اسی اونچائی پر ہوتا ہے جتنا کہ سورج ہوتا ہے۔
اس میں سرخ سورج کے قریب ترین رنگ ہوتا ہے جب کہ دائرے سے باہر نیلا رنگ دیکھا جا سکتا ہے۔
نورڈرم نے ناروے میں اسکیئنگ کے دوران اس رجحان کو دیکھا اور جلد ہی اسے اپنے کیمرے میں اس کی عکس بندی کردی
بلاشبہ نارویجن فوٹوگرافر خود کو ان شاٹس کی نگرانی کے لیے تیار نہیں کرسکا، کیونکہ یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے کہ یہ واقعہ پہلی جگہ کب رونما ہوا ہوگا۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ نورڈرم نے "جھوٹے سورج" کے رجحان کا مشاہدہ کیا ہے۔ وہ اس سے قبل 4 یا 5 بار اس کی تصویر کشی کر چکے ہیں۔
اگرچہ ہر بار شدت مختلف ہوتی ہے، لیکن نارویجن فوٹوگرافر کے مطابق یہ "کسی اور دنیا کا تجربہ" ہے۔