متحدہ عرب امارات میں سیلابی تباہی سے سینکڑوں کتے اور بلیاں "بے گھر" ہوگئے

خوفناک سیلاب سے جانوروں کے شیلٹر تباہ ، امدادی کارکنوں نے پالتو جانوروں کو ریسکیو کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سیلابی ریلے ہر جگہ نقصان اور تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ عام طور پر اس سے انسانوں اور ان کے گھروں کے نقصان کے علاوہ مال مویشیوں کے بہہ جانے کے تکلیف دہ واقعات کی اطلاعات آتی ہیں۔ مگر متحدہ عرب امارات میں کئی دہائیوں بعد ہونے والی طوفانی بارشوں نے کتوں اور بلیوں کی قائم پناہ گاہوں کو بھی سخت نقصان پہنچایا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں جانوروں کے شیلٹرز تباہ ہوجانے سے سینکڑوں کتے اور بلیاں بے گھر اور بے در ہو جانے کی خبریں ملی ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں کتوں اور بلیوں کی اس تکلیف کو بھی شدت سے محسوس کیا گیا ہے اور ان کے شیلٹرز کی تباہی کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔

سیلاب متاثرہ اہم علاقے فجیرہ میں جانوروں کے بچاو کے لیے قائم ایک گروپ' جانور اور ہم ' نے بتایا ہے کہ یہ 400 سے زائد کتوں اور 100 کے قریب بلیوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ اس دہائیوں بعد آئے سیلاب کی وجہ سے کئی جگہوں پر جانوروں کے شیلٹر گر گئے ہیں اور اب انہیں عارضی شیلٹرز میں رکھا گیا ہے۔

'جانور اور ہم ' نامی اس غیر کاروباری ادارے نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے ' یہ بڑا ہی تکلیف دہ ہے کہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کو دیکھا جائے ، جو بہت سارے انسانوں اور جانوروں کو بے گھر کر گئی ہے۔'

جانوروں کے شیلٹر کی بانی مشیل فرانسیس کا کہنا ہے کہ فجیرہ میں اس کا گھر پانچ فٹ پانی کی زد میں ہے۔ اس نے 18 کتوں اور کئی بلیوں کو اس سیلاب میں بہ جانے سے بچا لیا ہے۔

فرانسیس کا بیٹا ورنون بھی 6 کتوں اور 16 بلیوں کے ساتھ گھر کی سیڑھیوں کے اوپر بنے چھوٹے کمرے میں محصور ہو کر رہ گیا تھا اور مدد کا منتظر تھا۔

امدادی کارکنوں کی ایک ٹیم فور بائی فور وہیل گاڑی کی مدد سے وہاں پہنچی، اس ٹیم نے ان کتوں کو وہاں سے بحفاظت نکال لیا ۔ لیکن پالتو جانوروں کو بچا لے جانے والی اس ٹیم کا کہنا ہے کہ سیلاب کے اثرات بہر حال بڑے تباہ کن ہیں۔ '

سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ میں اس ٹیم نے لکھا ہے ' جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سیلاب کی تباہ کاری کے بعد پیچھے رہ جانے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ ہمیں سیلاب کے بعد بہت سا کام کرنا پڑتا ہے اور بہت سی چیزوں کو نئے سرے سے صاف کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح ہمیں جانوروں کی بھی وسیع پیمانے پر بھلائی کے کاموں کو دیکھنا ہو گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں