افغانستان کے دارلحکومت کو ہفتے کے روز خواتین کی طرف سے نکالے گئے احتجاجی مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے طالبان جنگجوؤں نے ہوائی فائرنگ کی۔ یہ مظاہرہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد طالبان کے اقتدار سنبھالنے کا پہلا سال مکمل ہونے سے چند روز پہلے کیا گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’’اے ایف پی‘‘ کے کابل میں نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ’’کم سے کم 40 خواتین نے دارلحکومت میں وزارت تعلیم کی عمارت کے سامنے احتجاجی مارچ کیا۔‘‘ وہ ’’روٹی، ملازمت اور آزادی‘‘ کے نعرے لگا رہی تھیں جب جنگجوؤں نے انہیں منتشر کرنے کے لیے اپنی بندوقوں سے ہوائی فائر کیے۔‘‘
کچھ خواتین مظاہرین جنہوں نے قریبی دکانوں میں پناہ لی تھی، طالبان جنگجوؤں نے ان کا پیچھا کیا اور ان پر رائفل کے بٹوں سے تشدد کیا۔
فائرنگ سے بچنے کی خاطر مظاہرہ کرنے والی چند خواتین نے قریبی دکانوں میں پناہ لینا چاہی تو طالبان جنگجوؤں نے ان کا وہاں پیچھا کر کے انہیں رائفل کے بٹوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔
مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایک بینر اٹھا رکھا جس پر ’’پندرہ اگست کو یوم سیاہ‘‘ بتایا گیا تھا۔ اس روز طالبان کے افغانستان میں برسراقتدار آنے کا پہلا سال مکمل ہو رہا ہے اور احتجاج کرنے والی خواتین اس موقع پر ملازمت کا حق اور سیاسی عمل میں شراکت کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
منتشر ہوتے مظاہرہ کرنے والی خواتین نے ’’انصاف، انصاف ۔۔ ہم جہالت سے تنگ آ چکی ہیں‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔