سوڈان میں نیشنل سول ڈیفنس کونسل نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 80 ہو گئی ہے جب کہ 31 زخمی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کی تعداد 17,080 تک پہنچ گئی اور 23,850 مکانات جزوی طور پر تباہ ہوئے، اس کے علاوہ بڑی تعداد میں دکانیں اور دیگرسہولیات بھی تباہ ہوئیں۔
دوسری طرف سوڈانی حکومت نے 6 ریاستوں میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔
اتوارکو سوڈان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ اس سال کے موسم کی بارشیں زیادہ ہوں گی۔ اچانک سیلاب زیادہ تر ریاستوں پر حملہ کر سکتا ہے، جس کے لیے خاص طور پر نشیبی علاقوں میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
وزير التنمية المحلية السوداني لــ #العربية: قد نعلن البلاد بأكملها منطقة منكوبة بسبب استمرار الأمطار pic.twitter.com/H8hap2yPlT
— العربية (@AlArabiya) August 20, 2022
سوڈان میں نیشنل سول ڈیفنس کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پناہ گاہ کے سامان اور دیگر سے تمام موجودہ امداد کو محدود کرنے اور طوفانی بارشوں اور بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاستوں یعنی دریائے نیل، الجزیرہ، کسالا کی ریاستوں میں منصفانہ اور فوری طور پر تقسیم کرنے کی سفارش کی گئی۔
سوڈانی وزیر برائے سماجی ترقی احمد آدم بخیت نے کہا کہ طوفانی بارشوں کی وجہ سےمتاثرہ علاقے کو آفت زدہ علاقہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
كاميرا #العربية ترصد مأساة عشرات الأسر السودانية التي تعيش بالعراء بعدما هدمت السيول منازلها بولاية الجزيرة.. ومواطن: أهملتنا السلطات.. ونناشد المجتمع الدولي بمد يد العون لنا بالغذاء والدواء#السودان pic.twitter.com/ZfleRM45xS
— العربية (@AlArabiya) August 20, 2022
انہوں نے ہفتے کے روز "العربیہ" اور "الحدث" کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "انتباہ کی حالت جاری ہے اور ہمیں مزید بارش کی توقع ہے۔"
انہوں نےانکشاف کیا کہ موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے 43,000 گھروں کو جزوی یا مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے۔