’فوٹو گرافی کے لیے ماں نے اپنا زیور بیچ کر بیٹے کو کیمرہ خرید کر دیا‘

صنعا کی سڑکوں پرانجیربیچنے والا یمن کا الاسدی بہترین فوٹوگرافر اور فلم ساز کیسے بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

یمن میں جنگ کی کئی سال پر پھیلی تباہ کاریوں کے درمیان عبدالرحمان الاسدی جیسے باہمت نوجوان بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے اپنی ہمت اور محنت سے نہ صرف اپنی زندگی بدل ڈالی بلکہ انہوں نے اپنے ملک اور قوم کے لیے بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

عبدالرحمان الاسدی بھی جنگ سے متاثر ہوا اور اسے آخر کار اپنا گھر بار تک چھوڑنا پڑا۔ جنگ کے دنوں میں وہ اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے صنعا کی گلیوں میں انجیر بیچا کرتا تھا مگر وہی اسدی آج ایک بہترین فوٹو گرافر،فلم ساز اور آرٹسٹ بن کرملک کی خدمت کررہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الاسدی نے کہا کہ سنہ2014ء میں ان کے گھر میں تنگ دستی کا عالم تھا۔ غربت سے تنگ آکر انہوں نے صنعا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ صنعا میں انہوں نے انجیر بیچ کراپنا گذر اوقات شروع کی۔ وہاں سے دوبارہ انہوں نے مآرب گورنری کا سفر کیا۔ مآرب جنگ سے متاثرہ علاقہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے دوسرے علاقوں سے آٹھ لاکھ افراد یہاں منتقل ہوئے۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالرحمان الاسدی نے کہا کہ ملک میں جاری جنگ سے ہرشخص تنگ ہے۔ ہم سب امن ہی چاہتے ہیں۔ امن کی خدمت کے لیے میں نے تصویر کو’سافٹ امیج‘ کے طور پربہ طور ہتھیاراپنایا۔ ان کے تیار کردہ البمزمیں جنگ کی تباہ کاریاں پیش کی گئی ہیں۔ ان مناظرمیں لڑائی،تشدد اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی وبربادی کی کیفیات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تصاویر کے ذریعے میں جنگ کے خلاف امن کا پیغام دیتا ہوں۔ جنگ تشدد کو جنم دیتی ہے۔ مصائب وآلام پیدا کرتی ہے اور معصوم لوگوں کا جانی اور مالی نقصان کرتی ہے۔

عبدالرحمن نے الاسدی نے مزید کہا کہ "مجھے امید ہے کہ میں نے جو تصاویر لی ہیں وہ انسانی جذبات کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوں گی، اس کے نتیجے میں سیاست دانوں اور جنگجوؤں کے فیصلوں میں ردوبدل اور انہیں لوگوں کی تکالیف کا ازالہ کرنے اور مستقل جنگ بندی کے لیے بات چیت کا سہارا ملے گا۔

عبدالرحمٰن نے مزید کہا کہ "مجھے ایک باوقار زندگی تلاش کرنے کے لیے مآرب منتقل ہونا پڑا۔ جو ایک نوجوان کے طور پر میرے حقوق کو محفوظ رکھتا ہو۔ اس گورنری میں میں نے اپنے غم کی تہذیب اور ثقافتی تصویر کی عکاسی کرنے کے لیے فوٹو گرافی کے اپنے خواب کو حقیقت بنانا شروع کیا۔ جنگ، غربت، قحط اور بے روزگاری کی چکیوں نے دنیا کی توجہ یمن کے خوبصورت چہرے اور اس کے لوگوں کی مہربانی، اس کی سرزمین کی خوبصورتی، اس کی فطرت، اس کے امیر اور دلفریب خطوں اور اس کی طرف سے ہٹا دی ہے۔

ماں کا زیور بیچ کرکیمرہ خریدا

عبدالرحمن نے فوٹو گرافی میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت کی کہانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے فوٹو گرافی کے فن کا بہت شوق تھا، لیکن اس میں بہت سی رکاوٹیں تھیں جو مجھے فوٹو گرافی میں پروفیشنل ہونے سے روکتی تھیں۔ان میں سے شاید سب سے نمایاں یہ تھی۔ میرے پاس کیمرہ خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ جب میری والدہ نے فوٹو گرافی کا میرا زبردست شوق دیکھا تو انہوں نے اپنے تمام زیورات فروخت کرنے کا فیصلہ کیا اورانہوں نےمجھے پہلا کیمرہ تحفے میں دے کر حیران کردیا۔

ایک سوال کے جواب میں الاسدی نے کہا کہ یہ میرے لیے بہت بڑا چیلنج تھا، اس لیے میں نے خود سے وعدہ کیا کہ میں اپنی والدہ کو اس کے زیورات دوگنا دوں گا۔ اس کا سر اور اپنے والد کا سر اونچا کروں گا۔ اس وقت میں نے ایک فوٹوگرافر کے طور پر انسانی ہمدردی کے کام میں رضاکارانہ طور پر کام کرنا شروع کیا۔ متاثرین اور بے گھر افراد کے کیمپوں میں متاثرہ افراد کی کہانیاں تصاویر کی شکل میں پیش کرنا شروع کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اندرون ملک اور بیرون ملک کام کرنے والی کئی انسانی حقوق کی تنظیموں اور انسانی امدادی تنظیموں کے لیے کام کیا۔ میں مآرب کے ہزاروں بے گھر لوگوں کے درد، جبر اور مصائب کی حقیقت کو بے ساختہ فوٹو البمز کے ذریعے پہنچانے میں کامیاب رہا۔

یمن کی خوبصورتی سے دنیا کو مسحور کرنا

نوجوان ستارہ چمکا اور انسانی فوٹو گرافی کے میدان میں بین الاقوامی تنظیموں کے زیر اہتمام متعدد فوٹو گرافی کے مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

اس تناظر میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ "دنیا کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ یمن ان تمام تنازعات اور جنگوں کے باوجود خوبصورت ہے۔ اس لیے وہ یمنی گورنری کے بیشتر علاقوں میں گھوم رہے ہیں تاکہ ان کے نشانات، فطرت اور ورثے کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔ بہت سے پلیٹ فارمز پر نشر کیا جاتا ہے اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پرسماجی کارکنوں کے ذریعےانہیں پھیلایا جاتا ہے۔

عبدالرحمن نے حال ہی میں "یمن خوبصورتی کا گھر ہے" کے نعرے کے تحت منعقد ہونے والی اپنی ذاتی نمائش کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کا مقصد یمن اس کے ورثے، رسوم و رواج، ثقافتوں اور فطرت کو جمہوریہ کے تمام گورنری میں لی گئی 200 سے زیادہ تصاویر کے ذریعے متعارف کرانا ہے۔

آخر میں عبدالرحمن نے یمن میں فوٹوگرافروں کی برادری پر زور دیا کہ وہ بقائے باہمی، رواداری اور امن کی تصاویر کی ترسیل کی ذمہ داری پر عمل کریں.۔ انہوں نے مزید کہا کہ"ہمارے پاس کافی جنگ، تنازعات، خلل اور تارکین وطن ہیں۔ ہم سلامتی اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں