طالبان کا روس کے ساتھ گندم اور تیل درآمد کرنے کا معاہدہ

یہ اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ ہے، طالبان ایران سے بھی تیل لیتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان کی طالبان حکومت نے روس کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں تاکہ اپنے عام کی خوراک اور ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روس سے گندم اور تیل کی خرید سکے۔ رعائتی نرخوں پر گندم کے اس معاہدے سے طالبان کے لیے اپنے عوام کے خوراک کے مسائل کم کرنے کا موقع ملے گا، نیز علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔

طالبان حکومت کے وزیر تجارت و صنعت عبدالسلام جواد اخوندزادہ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'اس معاہدے کے تحت گیس، ڈیزل، روس سے آسکے گا مگر کم قیمت کی بنیاد پر۔مل سکیں گے۔' کسی ملک کے ساتھ طالبان حکومت کا یہ اب تک کا سب سے بڑا باضابطہ تجارتی معاہدہ اپنی حکومت قائم ہونے کے ایک سال بعد ہوا ہے۔

وزیر تجارت و صنعت نے فون پر کابل سے بات کرتے ہوئے کہا 'تیاری جاری ہے تاکہ گندم اور دیگر اشیا کی ترسیل ممکن ہو سکے۔ ان کے بقول جب سے طالبان حکومت میں آئے ہیں۔ یہ سب سے بڑی ڈیل ہے۔ ان میں سے تیل اور ڈیزل ایک ملین ٹن کی مقدار میں شامل ہوں گے۔ جبکہ پانچ لاکھ ٹن پٰتولیم گیس کی درآمد ہو گی۔'

انہوں نے گندم کے بارے میں بتایا یہ دو ملین ٹن ہو گی اور ہر سال آتی رہے۔ معلوم ہوا ہے کہ گندم کا یہ معاہدہ غیر معینہ مدت کے لیے ہے۔ اخوند زادہ نے مزید کہا کہ روسی حکومت کے ساتھ لمبی مدت کے مزید کئی معاہدات ہوں گے۔ واضح رہے اس معاہدے سے پہلے طالبان کے وزیر تجارت ایک ماہ قبل روسی دورے پر گئے تھے۔ ماہ جون میں طالبان حکومت نے ایران کے ساتھ 350000 ٹن کی پٹرولیم مصنوعات کا معاہدہ کیا تھا۔

واجح رہے کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کے ساتھ باقاعدہ تعلقات نہیں بنائے ہیں۔ تاہم بہت سے ملک طالبان کے ساتھ رابطے میں اور معاملات کر رہے ہیں۔ روس ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس نے کابل میں اپنا سفارتخانہ بند نہیں کیا ہے۔ افغانستان میں تیل کا ا ستعمال 1،3 ملین ٹن سالانہ ہے۔ تیل کا بڑا حصہ ازبکستان ترکمانستان اور ایران سے درآمد کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں