کہانی ایک عرب بچے کی جو پیدائشی طور پرعربی نہیں بلکہ صرف انگریزی بول سکتا ہے

غیرمعمولی ذہانت کے حامل نوح کواس کے عارضے کی وجہ سے اسکولوں میں داخلہ بھی نہیں مل رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

"نوح کا حق تعلیم" کے ہیش ٹیگ کے تحت مصر میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر چند روز قبل ایک 8 سالہ بچے کے دفاع کے لیے ایک مہم شروع کی گئی تھی۔ نوح تعلیم سے محروم تھا اور اس کی غیرمعمولی صلاحیت کے باوجود اسکول اسے داخلہ دینے کو تیار نہیں۔

ننھے نوح کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب اس کے خاندان نے اپنےدیگر بچوں کی طرح اسے اسکول داخل کرنے کی درخواست دی۔ مگر اسکولوں کا کہنا ہے کہ نوح کے پیدائشی ایسپرجر سنڈروم اور آٹزم سپیکٹرم ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے اسے اسکول داخل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسپرجرسنڈروم ایسا عارضہ ہے جس سے بچہ صرف انگریزی بول سکتا ہے۔

غیر معمولی صلاحیتیں

نوح کی والدہ ایمان عمر نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ ان کا بیٹا ایک سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ انگریزی سیکھے بغیر روانی سے بول سکتا مگر وہ عربی نہیں بول سکتا!

انہوں نے کہا کہ اس کی دوسری صلاحیتیں کچھ عرصہ قبل ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ وہ کارٹون فلمیں تیار کرسکتا ہے۔ ان کرداروں کو ڈرائنگ کرنے اور انہیں تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مانٹیجز اور پروڈکشن بھی کرتا ہے، اس کے علاوہ وہ ان پر اپنی آواز بھی ریکارڈ کرتا ہے!"

انہوں نے کہا کہ ہم نے نوح کوایسے اسکولوں میں داخل کرنے کی کوشش کی جہاں صرف انگریزی میں تعلیم دی جاتی ہے مگر آٹزم کی وجہ سے اسے داخلہ نہیں مل سکا۔

والدہ نے انکشاف کیا کہ بعض عہدیداروں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ مزید ایک سال کے لیے نوح کو اسکول نہ بھیجیں۔ اس کے بعد کسی ایسے سرکاری ادارے میں داخل کیا جائے مگر ہمیں بچے کے آٹزم کے عارضے کی وجہ سے ہمیں وہاں بھی بچے کے داخلےکی اجازت نہیں ملی۔

سب سے بڑا مسئلہ

نوح کی ماں نے وضاحت کی کہ وہ 19 دیگر اسکولوں میں گئی، لیکن انہوں نے اسے ہمارے پڑوس میں اس کی بیماری کی وجہ سے، یا اس وجہ سے کہ وہ دوسرے اوقات میں داخلہ لینے کے لیے مقررہ عمر سے دو ماہ بڑا تھا۔

تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا بچہ آٹھویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ وہ سکول میں داخلے کے لیے مقررہ عمر سے تجاوز کر جائے گا اور اس وجہ سے وہ مستقل اور ہمیشہ کے لیے تعلیم سے محروم رہے گا۔

اس انسانیت سوز مسئلے کے پیش نظر سوشل میڈیا کے کارکنوں نے ہیش ٹیگ "نوح کا حق تعلیم" کا آغاز کیا ہے جس میں ہونہار بچے کو بچانے، اسے اسکولوں میں داخل کرنے اور اسے تعلیم کے حق سے محروم نہ کرنے کے لیے حکومتی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔

انہوں نے وزیر تعلیم سے بھی اپیل کی کہ انہیں ان تمام فیصلوں اور شرائط سے باہر رکھا جائے جو ان کے اور ان کے خاندان کے خواب میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں