نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) نے جمعے کے روز روس کی طرف سے یوکرینی جنگ میں بیلاروس کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ انہوں نے لیتھوانیا کے صدر گیتاناس نوسیدا کے ساتھ اگلے سال ولنیئس میں ہونے والے نیٹو سربراہ اجلاس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے یوکرین کے لیے نیٹو کی حمایت کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا، اس تنازع میں بیلاروس کے ملوث ہونے کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
Good call with President @GitanasNauseda to prepare for next year’s #NATO summit in Vilnius. We discussed the importance of our support to #Ukraine as it faces #Russia’s aggression & concerns about #Belarus’s complicity in this illegal conflict.
— Jens Stoltenberg (@jensstoltenberg) October 14, 2022
نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو پر زور دیا کہ وہ کیف کے تنازعے میں مداخلت نہ کریں۔
اسٹولٹن برگ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ وہ "لوکاشینکو کی حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ روسی یوکرینی تنازعہ میں ملوث نہیں ہوں گے۔ ان کا کہناتھا کہ نیٹو نے دیکھا ہے کہ بیلاروس کو یوکرین کے خلاف فضائی حملوں میں استعمال کیا گیا تھا۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ "ہم نے دیکھا ہے کہ بیلاروس کو یوکرین کے خلاف میزائلوں اور فضائی حملوں کے لیے لانچنگ ایریا کے طور پر کیسے استعمال کیا جاتا ہے، لوکاشینکو کو روسی کوششوں کی مدد اور حمایت کرنا بند کر دینا چاہیے۔
واضح دھمکیاں
قبل ازیں بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا تھا کہ ان کے ملک نے روس کے ساتھ ایک مشترکہ فوجی ٹاسک فورس کی تعیناتی پر اتفاق کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ملک کی مغربی سرحدوں پر کشیدگی کے بعد کیا گیا ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتین کے اتحادی لوکاشینکو نے دعویٰ کیا کہ یوکرین بیلاروس پر میزائل داغنے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے روس کی جنگی کوششوں کے لیے منسک کی حمایت کا عزم ظاہر کیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ روس نے بیلاروس کو یوکرین میں اپنے فوجی آپریشن کے نقطہ آغاز کے طور پر استعمال کیا تھا، کیونکہ اس نے بیلاروس کے اڈوں سے شمالی یوکرین کی طرف فوجی اور ساز و سامان بھیجا تھا۔
منسک ماسکو کا سٹریٹجک اتحادی ہے جس نے بیلاروس کی یوکرین کی سرحد پر تقریباً 20,000 فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔
-
روسی فوج کو ڈرون طیارے چلانے کی تربیت دینے ایرانی شہری جنگی علاقے میں پہنچ گئے
ایک ہفتے کے دوران روس نے ایرانی مدد سے 136 ڈرون حملے کیے: یوکرین
مشرق وسطی -
روس ترکیہ کے راستے مغربی ملکوں کو گیس فراہم کرے گا: پوتین اور ایردوآن میں اتفاق
ہمارے پاس بین الاقوامی گیس تقسیم مرکز ہو گا، منصوبے پر فوری کام شروع کریں گے: ...
بين الاقوامى -
یوکرینی علاقوں کے روس میں انضمام پر سعودی عرب کی مذمت
سعودی عرب میں یوکرینی سفیر کا اقوام متحدہ میں روسی انضمام کے خلاف ووٹ پر اظہار ...
بين الاقوامى