رواں سہ ماہی میں دنیا بھرمیں ملازمتوں کی شرح نمو میں ’نمایاں کمی‘ہوگی: آئی ایل او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے خبردارکیا ہے کہ یوکرین جنگ سے پیدا ہونے والی معاشی افراتفری اورکھپت پرسخت مانیٹری پالیسی کے اثرات کی وجہ سے رواں سہ ماہی میں عالمی سطح پر روزگار کی شرح نمو میں ’نمایاں کمی‘ واقع ہوگی۔

اقوام متحدہ کے تحت عالمی ادارے کے مطابق اس بات کے آثار پہلے ہی موجود ہیں کہ 2022 کے اوائل میں عالمی سطح پر کام کرنے کے گھنٹوں کی بحالی دوسری اور تیسری سہ ماہی میں الٹ ہو گئی ہے۔

مجموعی طور پرجولائی سےستمبرتک تیسری سہ ماہی میں 2019ء کی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں چارکروڑکل وقتی کم ملازمتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔واضح رہے کہ آئی ایل اونے 2019ء کی چوتھی سہ ماہی کے عرصہ کو کووِڈ-19 کی وبا سے قبل ایک بینچ مارک سطح کے طور پرلیاہے۔

آئی ایل او نے اپنی’’کام پردنیا‘‘(ورلڈ آف ورک) رپورٹ میں کہا ہے کہ موجودہ رجحانات کے مطابق 2022 کی چوتھی سہ ماہی میں عالمی سطح پر روزگار کی شرح نمو میں نمایاں کمی آئے گی۔

آئی ایل او نے2022 کے وسط میں کام کرنے والے گھنٹوں کی سطح میں کمی کوصحتِ عامہ کی پابندیوں کو دوبارہ متعارف کرانےاوراس کے نتیجے میں چین میں لیبرمارکیٹ میں خلل انداز ہونے کے ساتھ ساتھ یوکرین تنازع اوراس کے نتیجے میں توانائی اور خوراک کی برآمدات میں رکاوٹوں کے سبب افراطِ زر کے دباؤ سے منسوب کیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ حدسے زیادہ پالیسی سخت کرنے سے ترقی یافتہ اورترقی پذیرممالک دونوں میں ملازمتوں اورآمدنی کوغیرضروری نقصان پہنچ سکتا ہے۔

آئی ایل او نے سال کے آخری مہینوں میں ملازمتوں کی خالی اسامیوں میں کمی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے بارے میں خبردارکیا ہے اورکہاہے کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ترقی یافتہ معیشتوں میں لیبرمارکیٹ کافی حدتک ٹھنڈی ہوگئی ہے اور خالی اسامیوں کی نمومیں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔

عالمی ادارہ محنت کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ہونگبو نے پالیسیوں کا ایک سلسلہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا جس کا مقصد انتہائی کمزور لوگوں کی مدد کرنا ہے۔اس ضمن میں انھوں نے ایسے کاروبارکو فروغ دینے پر زوردیا ہےجس میں روزگار یا آمدنی کی معاونت کی طرف غیرمعمولی کارپوریٹ منافع کا رُخ موڑا جاسکتا ہے۔

انھوں نے جنیوا میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’ہم مالیاتی سخت گیری میں سماجی پیکجوں اوراس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر کافی زور نہیں دے سکتے ہیں کیونکہ افراطِ زرفی الواقع سماجی اقدامات کے ساتھ جڑا ہوا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں