امریکانے جمعرات کے روز تیل کی اسمگلنگ کے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کے ارکان پرپابندیاں عاید کرنے کااعلان کیا ہے۔یہ نیٹ ورک تیل کی تجارت میں سہولت فراہم کرتا ہے اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور ایران کی بیرون ملک فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار القدس فورس کے لیے آمدن پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک میں وہ افراد اور متعدد فرنٹ کمپنیاں اوربحری جہاز شامل ہیں جنھوں نے ایران کے تیل کی ترسیل کی اصلیت کو چھپانے کے لیے اس میں ملاوٹ کی یا جعلی دستاویزات تیارکیں اور پھر اسے حزب اللہ اور پاسداران انقلاب کی حمایت میں دنیا بھر میں برآمد کیا۔
محکمہ خزانہ کے انڈرسیکریٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس برائن نیلسن نے کہاکہ’’اس غیرقانونی نیٹ ورک کو چلانے والے افراد شیل کمپنیوں کے جال اور دھوکادہی کے ہتھکنڈوں کا استعمال کرتے ہیں۔اس عمل میں ایرانی تیل کی اصلیت کو چھپانے، اسے بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کرنے اور پابندیوں سے بچنے کے لیے دستاویزات میں جعل سازی بھی شامل ہے۔
انھوں نے کہاکہ مارکیٹ کے شراکت داروں کوحزب اللہ اورپاسداران انقلاب کی القدس فورس کی تیل کی اسمگلنگ سے آمدن حاصل کرنے کی کوششوں سے محتاط رہنا چاہیے تاکہ دنیا بھر میں ان کی دہشت گردی کی سرگرمیوں کوناکام بنایا جاسکے۔
ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے خلاف تازہ امریکی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ 2015 میں طے شدہ جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور اس کے مغرب کے ساتھ تعلقات تیزی سے کشیدہ ہورہے ہیں جبکہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس اقدام کا ہدف خلیج میں برسرعمل افراد اورکمپنیوں کا ایک نیٹ ورک تھا جس کے بارے میں محکمہ خزانہ کا کہنا تھا کہ 2022 کے وسط تک وہ ایرانی تیل میں ملاوٹ اوراس کو برآمد کرنے کا دھندا کررہا تھا۔ واشنگٹن نے کہا کہ نیٹ ورک نے متحدہ عرب امارات میں شارجہ کی بندرگاہ میں اسٹوریج یونٹس کا استعمال کیا اور بھارت کی مصنوعات کو ایرانی تیل کے ساتھ ملایا تاکہ اس کی اصلیت کو ختم کیا جاسکے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق کمپنیوں نے تیل کے لیے اصل اورمعیار کے جعلی سرٹی فکیٹ میں ترمیم کی یا نئے تصدیقی کاغذات تیار کیے، جس کے بعد اسے بیرون ملک فروخت کے لیے منتقل کردیا گیا۔2021 کے آخر تک ایشیا کے خریداروں کو بھی ایرانی تیل کی کچھ مقدارکی فروخت کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔