روس اور یوکرین

یوکرینی فوج نے 10 ڈرونز مار گرائے، ماسکو کے راکٹ لانچروں سے 80 حملے

روسی بمباری کے بعد زاپوریجیا نیوکلیئر پاور پلانٹ نے کام بند کردیا، بجلی کی ہائی وولٹیج لائنیں تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

یوکرین میں روسی فوجی آپریشن جمعرات کے روز بھی جاری رہا۔ روسی فوج یوکرین میں مزید علاقوں پر کنٹرول بڑھانا چاہ رہا اور یوکرینی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ دوسری طرف کئیف بھی روسی ریچھ کے خلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے ۔۔ یوکرین مغرب کی فوجی اور لاجسٹک مدد سے اپنے علاقے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت کے حوالے سے "العربیہ" اور "الحدث" کے نمائندوں نے بتایا ہے کہ کہ یوکرین کے فضائی دفاع نے 10 ایرانی ساختہ ڈرون مار گرائے ہیں۔

یوکرین کی فوج کا ہے کہ روسی افواج نے راکٹ لانچروں سے 80 حملے کیے جس سے 20 سے زائد شہر اور قصبے متاثر ہوئے ہیں۔ فوج نے مزید کہا کہ روسی افواج زاپوریجیا اور کھیرسن صوبوں سے شہریوں و زبردستی نکال رہی ہے۔ صوبہ لوگانسک میں روسی افواج شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

یوکرائنی جوہری توانائی کی کمپنی اینرگوٹم نے کہا کہ روسی بمباری سے بجلی کی ہائی پریشر کی لائنیں تباہ ہونے سے

زاپوریجیا پاور پلانٹ نے کام بند کردیا ہے ۔ یہ پلانٹ اب صرف ایندھن پر چلنے والے جنریٹرز کے ذریعے کام کر رہا ہے۔

دریں اثنا یوکرین کے میڈیا ذرائع کے مطابق ملک کے جنوب میں کھیرسن، میکولائیف اور نیکوپول شہروں میں دھماکے ہوئے ہیں۔

اس سے قبل روسی میڈیا نے جنوبی یوکرین میں زاپریجیا کے میلیٹوپول شہر میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی تھی۔ شہر کے روس نواز حکام نے فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شہر کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

25 قصبوں پر بمباری کی گئی

یاد رہے بدھ کے روز یوکرین کے جنرل اسٹاف نے اطلاع دی تھی کہ مشرق میں لڑائیاں ہو رہی ہیں اور مشرق، مرکز اور جنوب کے 25 قصبوں پر بمباری کی گئی ہے۔

اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے علاقائی دارالحکومت کے جنوب میں کھیرسن کے محاذ پر بیلوزرکا گاؤں میں بڑی تباہی کی اطلاع دی ہے جہاں روسی افواج آئندہ یوکرینی حملے کی تیاری کے لیے اپنی پوزیشنیں مضبوط کر رہی ہیں۔

بیلوزرکا میں روسی فوج سڑک کے جنوبی سرے سے اس جگہ پر بمباری کر رہی ہیں جہاں وہ مارچ میں اس قصبے سے دستبردار ہونے کے بعد سے چھپے ہوئے ہیں۔

انفرا سٹرکچر کو نشانہ بنانے والے روسی حملے

واضح رہے پیر کے روز سے روس نے کئیف اور یوکرین کے شہری انفراسٹرکچر پر کروز میزائل حملوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ جس کی وجہ سے خاص طور پر کئیف میں پانی اور بجلی کی فراہمی معطل ہوکر رہ گئی ہے۔

بدھ کو یوکرین الیکٹرسٹی کارپوریشن نے بجلی کی نئی راشننگ کا اعلان کیا، کئیف کے میئر نے موسم سرما تک آبادی کے لیے ایک ہزار "ہیٹنگ پوائنٹس" لگانے کا وعدہ کیا ۔

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی حملوں نے یوکرین کی 40 فیصد توانائی کی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے جس سے ملک نے یورپی یونین کو برآمدات روک دی ہیں اور ان اشیا کی قیمتیں اب آسمان کو چھو رہی ہیں۔

ممکنہ ایٹمی حملہ

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی کے مطابق بدھ کو امریکہ کی جانب سے اس امکان کے بارے میں "بڑھتی ہوئی تشویش" کے اظہار کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ یوکرین میں ممکنہ روسی جوہری حملے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

کربی کے تبصرے نیویارک ٹائمز کے ایک مضمون کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں بتایا گیا تھا کہ سینئر روسی حکام نے حال ہی میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا تھا کہ یوکرین میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار کب اور کیسے استعمال کیے جائیں۔ اس گفتگو میں میں جوہری بم سے کمزور بم کا حوالہ دیا گیا تھا۔

بدھ کو کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ مغربی میڈیا کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے معاملے کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے جو غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔

دریں اثنا ایک اور دھمکی سابق روسی صدر دمتری میدویدیف کی طرف سے سامنے آئی ہے جو قومی سلامتی کونسل کے ایک اعلیٰ عہدیدار ہیں۔

میدویدیف نے منگل کو ایک مرتبہ پھر جوہری ہتھیاروں پر بات کی اور یوکرین کو خبردار کیا کہ وہ روس کے زیر کنٹرول تمام علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش سے باز رہے۔

میدویدیف نے کہا کہ یوکرین کا اپنے تمام روسی زیر قبضہ علاقوں بشمول ڈونباس کے علاقے اور کریمیا کو بحال کرنے کا ہدف "ہماری ریاست کے وجود کے لیے خطرہ" ہوگا۔

بدھ کے روز روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہماری "اولین ترجیح" جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ سے بچنا ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں