یمن کی حضرموت گورنری میں تاریخی سيئون محل کی بحالی
ملک کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے سعودیہ کی کوششوں کو سراہتے ہیں: یمینی وزیر اطلاعات
سعودی وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن فرحان نے حضرموت گورنری میں تاریخی سيئون محل کی بحالی کا اعلان کردیا۔ اس منصوبہ کی فنڈنگ یمن کی ترقی اور تعمیر نو کے سعودی پروگرام کی طرف سے کی جائے گی اور منصوبہ پر عمل درآمد یونیسکو کی جانب سے کیا جائے گا۔
شہزادہ بدر بن فرحان نے کہا کہ یہ اقدام یمن کی حمایت میں ہماری قیادت کی ہدایات پر عمل درآمد کے ضمن میں اٹھایا جا رہا ہے۔
دوسری طرف یمن کے اطلاعات، ثقافت اور سیاحت کے وزیر معمر العریانی نے یمنی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ سيئون محل کی بحالی کا منصوبہ ان 224 ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات میں شامل ہے جو یمن کی ترقی اور تعمیر نو کے سعودی پروگرام کا حصہ ہیں۔ یہ سعودی پروگرام 7 بنیادی شعبوں میں نافذ کیا جارہا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پرانا قلعہ، سيئون محل یا جسے ان دنوں الکثیری محل کہا جانا ہے ریاست کثیریہ کے سلطان حکمرانوں کا محل ہے۔ ان حکمرانوں نے وادی حضر موت میں نامعلوم تاریخ تک حکومت کی تھی۔ یہ محل میٹی کی اینٹوں سے بنی دنیا کی سب سے بڑی عمارتوں میں سے ایک ہے ۔ اس محل کی تصویر یمن کے 1000 ریال کے نوٹ پر بھی موجود ہے۔
واضح رہے حضر موت میں مٹی کا فن تعمیر آج بھی زیر استعمال ہے جس کی وجہ یہ ہے یہاں کی آب و ہوا بھی اس فن کو جاری رکھنے میں مدد دیتی آرہی ہے۔
سيئون محل میں ایک عجائب گھر ہے جس میں بہت سے دستکاریاں اور بہت سے اوزار ہیں جو اس مرحلے میں استعمال ہوتے تھے۔ اس میوزیم میں لوگ اپنے ذوق کی تسکین کیلئے سال بھر آتے رہتے ہیں۔