97 سال کی عمر میں مہاتیر محمد دوبارہ ملائیشیا کے وزیراعظم بننے کے منتظر

مہاتیر 2018 میں سب سے معمر وزیر اعظم بن کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ بنا چکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم 97 سالہ مہاتیر محمد نے ہفتہ کے روز 5 نومبر کو عام انتخابات کے لیے اپنے امیدواری کے کاغذات جمع کرا دئیے ۔ سیاسی منظر نامہ پر دوبارہ واپس آنے کی امید میں ان کا یہ اقدام ان کی آخری الیکشن کی دوڑ ثابت ہوسکتی ہے۔

ملائیشیا میں 19 نومبر کو قبل از وقت عام انتخابات منعقد ہو رہے ہیں ۔ یہ الیکشن اصل میں ستمبر 2023 میں شیڈول تھے۔

وزیر اعظم اسماعیل صابری یعقوب پر اپنی پارٹی یونائیٹڈ ملائیشین نیشنل آرگنائزیشن (AMNO) کی طرف سے شدید دباؤ تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیں اور اپنی انتہائی پتلی اکثریت کو مضبوط کرنے کی امید میں قبل از وقت انتخابات کرائیں۔

مہاتیر محمد کی صحت اچھی ہے

مہاتیر محمد جنہوں نے 2018 میں دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے کے بعد " سب سے زیادہ عمر کے وزیر اعظم" ہونے کی وجہ سے گینز بک آف ریکارڈز میں نام درج کیا تھا، وہ 19 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں دوبارہ حصہ لیں گے۔ اس الیکشن میں وہ لنگکاوی جزیرے پر پارلیمنٹ میں اپنی نشست کا دفاع کریں۔

ہفتے کے روز درجنوں حامیوں نے مہاتیر محمد کا استقبال کیا جو اپنی عمر کے باوجود اچھی صحت میں نظر آئے۔ وہ جزیرے کے مرکزی شہر کوہ میں مقامی حکومت کے دفتر پہنچے جہاں انہوں نے پارٹی کے جھنڈے لہراتے ہوئے اپنی امیدواری کے کاغذ جمع کرائے۔

حکمراں یونائیٹڈ ملائیشین نیشنل آرگنائزیشن (یو ایم این او) کے اسماعیل اور پاکٹن ہاراپن اتحاد کے اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم نے بھی ملک میں دیگر مقامات پر اپنے کاغذات جمع کرا دئیے۔

انور ابراہیم نے ووٹرز سے کہا کہ وہ بڑی تعداد میں شرکت کریں کیونکہ یہ خدشہ ہے کہ مون سون کے موسم میں شدید بارشیں ٹرن آؤٹ کو کم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے شمالی ریاست پیراک میں اپنے حلقے سے اے ایف پی کو بتایا کہ میں پر امید ہوں کہ ہم جیت جائیں گے۔

ایک پارٹی کے کارکنوں پر شیلنگ

دریں اثناء صباح کے علاقہ میں پولیس نے ایک چھوٹی اپوزیشن پارٹی کے درجنوں حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی جنہوں نے اپنے رہنما کی نامزدگی مسترد ہونے کے بعد اندرون ملک قصبے تینم میں ایک نامزدگی مرکز تک پہنچنے کی کوشش کی۔ واضح رہے ملائیشیا کے عام انتخابات میں شدید تشدد شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔

لنگکاوی میں مہاتیر نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے پاس جیتنے کا "اچھا موقع" ہے ۔ انہوں نے ریٹائر ہونے کی تجاویز کا مذاق اڑایا اور کہا "میں اب بھی آپ سے بات کر رہا ہوں، اور مجھے لگتا ہے کہ میں معقول جواب دے رہا ہوں۔"

انہوں نے " یو ایم این او " کے حوالے سے واضح نشاندہی کی کہ ان کی پارٹی دھوکہ بازوں یا جیل زدہ قیادت والی جماعتوں کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کرے گی۔

مہاتیر کی اقتدار میں واپسی

مہاتیر محمد نے 1981 اور 2003 کے درمیان آہنی ہاتھوں سے جنوب مشرقی ایشیائی ملک پر حکمرانی کی تھی ۔ وہ 2018 کے عام انتخابات میں حزب اختلاف "امید کے اتحاد" کی قیادت کرنے کے لیے ریٹائرمنٹ سے واپس آئے تھے۔

اصلاح پسند اتحاد نے نجیب عبدالرزاق پر بڑی فتح حاصل کی تھی۔ نجیب عبد الرزاق وزیر اعظم رہے اور بعد میں انہیں مالیاتی سکینڈل سے منسلک بدعنوانی کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی اور اب وہ 12 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

مہاتیر اپنی 93 ویں سالگرہ کے صرف دو ماہ بعد دوبارہ وزیر اعظم بنے لیکن ان کی حکومت دو سال سے بھی کم عرصے میں اندرونی لڑائی کی وجہ سے گر گئی۔

جیت کا امکان محدود

مہاتیر کی حامی 66 سالہ حمیدہ ایوب نے کہا، "آپ کو میرے ملک کے حالات دیکھنا چاہیے... اتنی کرپشن، اتنی بے ضابطگیاں، یہ لڑنے، لڑنے اور لڑنے کا وقت ہے۔"

لیکن یونیورسٹی آف ناٹنگھم ملائیشیا کے تجزیہ کار بریجٹ ویلچ کے مطابق جہاں تک مہاتیر کے لنگکاوی میں آسانی سے جیتنے کی امید ہے تو تیسری بار پریمیئر شپ تک پہنچنا مشکل ہو گا۔

مہاتیر کے بلاک سمیت کم از کم چار بلاک 222 نشستوں والے ایوان نمائندگان میں اکثریت کے لیے کوشاں ہیں۔ ان میں مقابلہ سخت ہے۔

21 ملین ووٹرز میں سے 60 لاکھ سے زیادہ نئے رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں سے اکثر نوجوان ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں