ترکیہ: ووٹر لسٹوں میں 2 لاکھ غیر ملکی شامل، الیکشن پر اثر انداز ہونے کا خدشہ

حزب اختلاف کو خدشہ ہے شام، لیبیا، عراق اور افغانستان کے ووٹر ایردوان کو ووٹ دینگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ترکیہ میں اگلے سال کے موسم گرما میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔ الیکشن قریب آنے کے بعد ترکیہ میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت "ریپبلکن پیپلز پارٹی" نے ایک مرتبہ پھر ان انتخابات میں ترک شہریت کے حامل غیر ملکیوں کی شرکت کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کردیا ہے۔ حزب اختلاف نے واضح کیا ہے کہ حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی اگلے 2023 کے جون میں ہونے والے انتخابات میں ترکیہ کی قومیت حاصل کرنے والے غیر ملکیوں سے کیسے فائدہ اٹھائے گی۔

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت اور ملکی پارلیمان میں دوسری بڑی جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی ) کا دعویٰ ہے کہ شام، لیبیا، عراق اور افغانستان سے کم از کم 2 لاکھ ووٹرز اگلے انتخابات میں حصہ لیں گے اور ووٹ ڈالیں گے اور ان کے ووٹ حکمران پارٹی کو دئیے جانے کا امکان زیادہ ہے۔

حزب اختلاف کی مرکزی جماعت پارلیمنٹ کے ذریعے ایک بل پاس کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ نئے حاصل کی جانے والی ترک شہریت کے مالکان کو ان انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا سکے۔ لیکن یہ جماعت ایسے منصوبے کو آسانی سے پاس نہیں کر سکتی کیونکہ حکمران اتحاد کو پارلیمانی اکثریت حاصل ہے۔ حکمران اتحاد میں " جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ اور دولت بہچلی کی زیر سربراہی "قومی تحریک" شامل ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعت نے نام نہاد "انتخابات کی حفاظت" کی اہمیت پر زور دیا ہے اور آنے والے انتخابات کے نتائج پر ترک شہریت حاصل کرنے والے نئے ووٹروں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ یاد رہے اگلے سال ترک ریاست کے قیام کی سو سال بھی مکمل ہو رہے ہیں۔

ایک ترک ماہر تعلیم اور ایک مرکز کے ڈائریکٹر جو وقتاً فوقتاً رائے شماری کراتے ہیں، نے ترک شہریت حاصل کرنے والے غیر ملکیوں کی تعداد کے درست ہونے پر سوال اٹھائے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ حزب اختلاف کی جانب سے بتائی گئی 2 لاکھ کی تعداد وزارت داخلہ کی طرف سے ظاہر کیے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

ترکی کے ایک ماہر تعلیم اور مشہور "میٹروپول" ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر اوزر سانسر نے کہا کہ

"حکومت ریاست کی جانب سے شہریت دیتی ہے، اس لیے ان لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ کوئی نہیں جانتا کہ ریاستی اداروں نے کس کو شہریت دی اور یہ تعداد کتنی ہے‘‘

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ترک ماہر تعلیم نے مزید کہا کہ ترک شہریت حاصل کرنے والے افراد کی تعداد، جن کا تخمینہ 2 لاکھ ہے، کے بارے میں گردش کرنے والے اعداد و شمار کا انتخابات کے نتائج پر کوئی واضح اثر نہیں پڑے گا۔ تاہم متعلقہ وزارتوں اور ترک ایوان صدر کے علاوہ ان نئے غیر ملکی ووٹرز کی تعداد کا صحیح علم کسی کو نہیں ہے۔

ہفتہ کے روز ریپبلکن پیپلز پارٹی نے ترکیہ کی نئی شہریت حاصل والوں کو آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے اپنی کال کی تجدید کی ہے۔

دائیں بازو کی قوم پرست ترک پارٹیوں نے گزشتہ جولائی سے ایک مہم شروع کی ہے جس کا مقصد بھی حالیہ برسوں میں ترک شہریت حاصل کرنے والے دسیوں ہزار افراد کو آئندہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا ہے۔

اس مہم کی قیادت قوم پرست ’’گڈ‘‘ پارٹی کر رہی ہے۔ یہ پارٹیاں اپنی مہم کے دوران اپنے حامیوں سے وعدہ بھی کر رہے ہیں کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو تارکین وطن کو ترکیہ سے بے دخل کر دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں