سوڈان کے نئے سیاسی فریم ورک پربات چیت جاری ہے:عبدالفتاح البرہان
سابق حکمراں جماعت کو سخت الفاظ میں انتباہ؛فوج یا سیاست میں مداخلت نہیں کریں
سوڈان کے فوجی حکمران لیفٹیننت جنرل عبدالفتاح البرہان نے اس بات کی تصدیق کی ہے ملک کے نئے سیاسی فریم ورک کے بارے میں بات چیت جاری ہے،ساتھ ہی انھوں نے سابق حکمران جماعت کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ وہ فوج یا سیاست میں مداخلت نہیں کرے۔
دارالحکومت خرطوم کے شمال میں واقع ایک فوجی اڈے پراتوارکوفوجیوں سے خطاب میں جنرل البرہان نے جاری مذاکرات کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ ہم کسی بھی ایسے شخص کے ساتھ ہاتھ ملانے کو تیارہیں جو اس ملک کو بچانا چاہتاہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ کسی بھی ایسی بات سے متفق نہیں ہوں گے جو فوج کوتوڑنے کی راہ ہموار کرتی ہو۔
گذشتہ سال عبدالفتاح البرہان کے زیرقیادت فوج نے سیاسی قیادت کے خلاف بغاوت کردی تھی جس سے ملک میں جاری سیاسی عمل تعطل کا شکار ہوگیا تھا۔اس کے بعد سے سابق مطلق العنان صدرعمرالبشیر کی نیشنل کانگریس پارٹی نے عوامی زندگی اور سیاسی سروس میں واپس آنے کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فوج نے ایک نئی سیاسی اورافسرشاہی کی بنیاد کی تشکیل میں اس کی اجازت دی ہے۔
تاہم جنرل برہان نے اپنی تقریر میں اس بات کی تردید کی ہے کہ فوج سابق صدربشیرکی نیشنل کانگریس پارٹی کی حمایت کرتی ہے۔انھوں نے کہا:’’ہم ان لوگوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں جو فوج کے پیچھے چھپتے ہیں، بالخصوص نیشنل کانگریس پارٹی اور اسلامی تحریک‘‘۔
انھوں نے مزید کہا:’’(اب آپ) پرے ہٹ جائیے،تیس سال بہت ہوتے ہیں۔لوگوں کوموقع دیجیے۔یہ امید مت رکھیں کہ آرمی آپ کو واپس لائے گی‘‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’2019ء میں بشیرنظام کواقتدار سے نکال باہر کرنے میں جوکوئی بھی ادارے کاحصہ تھا،یہ ہمارا قانونی حق ہے کہ ہم انتخابات کے انعقاد کی طرف پیش رفت کے لیے اس عبوری دورکی تکمیل میں اس کے ساتھ کھڑے ہوں‘‘۔انھوں نے بتایا کہ اتفاق رائے کو بڑھانے کے لیے اس عمل میں دوسرے سیاسی گروپوں کو شامل کیا گیا ہے۔