خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی":امریکہ کی عراقی کردستان میں ایران کے حملے کی شدید مذمت

ایران نے بارہا عراقی خود مختاری کو پامال کیا، ایسے حملوں سے باز رہا جائے: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

منگل کے روز امریکہ نے عراق میں مقیم ایرانی کرد اپوزیشن گروپوں کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کی مذمت کی اور اس کارروائی کو عراقی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے انڈونیشیا کے بالی میں جی 20 سربراہی اجلاس میں سیکریٹری انتھونی بلنکن کی شرکت کے دوران کہا کہ ایران نے بار بار عراق کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، ہم نے تہران سے ان حملوں کو روکنے اور عراق کی علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات سے باز رہنے کا کہا ہے۔

پیر کو عراقی وزارت خارجہ نے کہا تھا بغداد ایرانی حملوں کے خلاف اعلیٰ سطح کے سفارتی اقدامات کرے گا۔

وزارت خارجہ نے کردستان کے علاقوں میں ایرانی بمباری کی شدید مذمت کی تھی۔

واضح رہے پیر کے روز عراقی کردستان میں نیم خود مختار ریاست اربیل پرایرانی حملے میں ایک شخص شہید اور 8 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

عراقی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کا یکطرفہ اور معاندانہ رویہ استحکام کا باعث بننے والے حل کو آگے بڑھانے کا باعث نہیں بنے گا۔ یہ حملہ عراق کی خودمختاری اور اس کے شہریوں کی سلامتی کو لاحق شدید خطرات کی نشاندہی کر رہا ہے۔ ایران کا رویہ ایک مسلسل خطرہ ہے جو خطے میں انتشار کا باعث بنے گا اور خطے میں کشیدگی کی سطح کو بڑھا دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں