عالمی خوراک پروگرام کی شامی پناہ گزینوں کے لیے امداددینے پرکے ایس ریلیف کی تعریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کے تحت عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے اردن میں خیمہ بستیوں میں مقیم شامی پناہ گزین خاندانوں کو خوراک مہیّا کرنےکے لیے سعودی عرب کے شاہ سلمان انسانی امداد اورریلیف مرکز(کے ایس ریلیف) کی جانب سے 60 لاکھ ڈالرکی بروقت امداد کا خیرمقدم کیا ہے۔

اس عطیے کو 53,110 شامی پناہ گزینوں کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔وہ اردن میں الزعتری اور ازرق میں واقع کیمپوں میں رہنے والے شامی مہاجرین کا قریباً نصف ہیں۔

کے ایس ریلیف کے شعبہ ہنگامی امداد کے سربراہ فہدالعیثمی نے کہاکہ ان کا ادارہ دنیا بھرمیں غذائی تحفظ کی حمایت کا خواہاں ہے اور ہم تمام ضرورت مندوں کوبلا تفریق مدد مہیّا کرنے کے لیے انسانی ہمدردی کے بہت سے اداروں کے ساتھ مل کرکام کرتے ہیں۔ہمیں اردن میں شامی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے اپنے تزویراتی شراکت دارڈبلیو ایف پی کے ساتھ مل کر اس منصوبے پرکام کرنے میں خوشی ہورہی ہے۔کے ایس ریلیف کی بروقت شراکت سے شامی مہاجرین کے لیے وسائل کی دستیابی اورفوری انسانی ضروریات کے درمیان فرق کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

اردن میں عالمی خوراک پروگرام کے نمائندے اور کنٹری ڈائریکٹر البرٹوکوریا مینڈس نے کہا کہ "ڈبلیو ایف پی مملکت سعودی عرب کی جانب سے اس امدادی شراکت پرممنون ہے۔اس نے یہ امداد ایسے کڑے وقت میں مہیّا کی ہے جب اردن میں کمزوربرادریوں پرعالمی بحران کے طویل اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی کثیر تعدادغذائی عدم تحفظ کے خطرے سے دوچار ہے‘‘۔

پناہ گزین کیمپوں میں مقیم افراد کوالیکٹرانک واؤچرز کے ذریعے مدد ملتی ہے جو بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کیمپوں کے ساتھ معاہدے میں شریک سپر مارکیٹوں اور روٹی کی دکانوں میں جدید آئیرس اسکین ادائی کے نظام کا استعمال کرتے ہوئے کھانا خریدکرتے ہیں۔ یہ واؤچرزہرماہ 23 اردنی دینار (32.49 ڈالر) فی کس کے حساب سے دیے جاتے ہیں تاکہ خاندان اپنی پسند کا کھانا خرید کرسکیں۔

واضح رہے کہ غذائی عدم تحفظ، بھوک اورغذائی قلت کی وجہ سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کے ایس ریلیف عالمی خوراک پروگرام کا دیرینہ شراکت دار ہے۔2015ء میں اپنے قیام کے بعد سے،کے ایس ریلیف نے 26 ممالک میں خوراک کے امدادی پروگراموں کے لیے ڈبلیو ایف پی کوسوا ارب ڈالر سے زیادہ کی رقوم عطیے کے طور پر دی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں