یمن اور حوثی

یمن: حوثیوں کا 32 افراد کیلئےسزائے موت اورقید کا فیصلہ

حوثی ملیشیا نے صنعا اور اپنے زیر کنٹرول دیگر گورنریوں میں سینکڑوں کارکنوں، سیاست دانوں، ماہرین تعلیم اور طلبہ کو جیلوں میں ڈال رکھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے زیر نگین دارالحکومت صنعاء میں ایک فوجداری عدالت نے صعدہ گورنری میں 32 زیر حراست افراد کو سزائے موت اور قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔ ان افراد پر ’’ دشمن ‘‘ ملکوں کی مدد کا الزام لگایا گیا۔ دشمن ملکوں سے مراد یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے ممالک ہیں۔

وکیل عبدالمجید صبرہ نے ہفتے کے روز اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں کہا کہ فیصلے میں 16 زیر حراست افراد کو ملیشیا کی جانب سے ’’ دشمن ‘‘ کہلائے جانے والے ملکوں کے ساتھ بات چیت کرنے اور ان کی مدد کرنے کے جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا اور ان کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے موت کی سزا سنائی گئی۔

فیصلے کے دوسرے پیراگراف میں یہ بھی کہا گیا کہ جاسوسی کے دو جرائم میں گرفتار ہونے والے 7 افراد کو مجرم قرار دیا جائے اور ان میں سے ہر ایک کو 15 سال قید کی سزا دی جائے۔ اور اصل مدت ختم ہونے کے بعد انہیں تین سال کے لیے پولیس کی نگرانی میں رکھا جائے۔

تیسرے پیراگراف میں عدلیہ نے انہی جاسوسی کے دو جرائم میں 6 دیگر افراد کو مجرم قرار دیا اور ان میں سے ہر ایک کو 10، 10 قید کی سزا سنائی اور اصل قید کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں میں سے تین افراد کو 3 سال کے لیے زیرِ نگرانی رکھنے کا کہا گیا۔

انسانی حقوق کی رپورٹوں کے مطابق حوثی ملیشیا نے اسی جاسوسی کے الزام میں اپنی جیلوں میں موجود سینکڑوں افراد کو موت کی سزائیں جاری کر رکھی ہیں۔ جاسوسی کے الزام کو حوثی اپنے مخالفین کے ساتھ سیاسی اختلافات طے کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

خیال رہے حوثی ملیشیا نے صنعا اور اس کے زیر کنٹرول دیگر گورنریوں کی جیلوں میں سیکڑوں کارکنوں، سیاست دانوں، ماہرین تعلیم اور طلبہ کو گرفتار کر رکھا ہے۔ انہیں ان کے گھروں اور کام کی مقامات سے اغوا کرنے کے بعد وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان مغویوں میں سے بڑی تعداد تشدد کے نتیجے میں ہلاک بھی ہو چکی ہے۔

یورو میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے اطلاع دی تھی کہ حوثیوں کے زیر کنٹرول عدلیہ سیاسی انتقام کا ایک آلہ بن چکی ہے جسے اس گروپ نے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا ۔ یہ عدلیہ کی آزادی اور سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں