صدام حسین کو پکڑا تو کہا ’’صدر بش اپنا سلام بھیجتے ہیں": امریکی افسر
جس سوراخ میں صدام تھے اسے پتوں اور ریت سے ڈھانپا گیا تھا: آپریشن میں شریک کیون ہالینڈ کی گفتگو
اس خفیہ امریکی مشن کو تقریباً دو دہائیاں گزر چکی ہیں جسے خصوصی آپریشنز فورسز نے انجام دیا تھا اور اس میں عراق کے سابق صدر صدام حسین کو گرفتار کرلیا گیا تھا ۔ اس آپریشن سے متعلق تفصیلات ایک بار پھر منظر عام پر آ گئی ہیں۔
7 دسمبر 2003 کو آنجہانی سابق عراقی صدر صدام حسین کی گرفتاری کے اس امریکی آپریشن کا حصہ رہنےوالے ایک اہلکار نے اس حوالے سے اپنے تجربے کی معلومات شیئر کی ہیں۔
صدر بش نے سلام بھیجا
ایک ٹیلی ویژن ایپی سوڈ میں ریٹائرڈ آرمی کمانڈر سارجنٹ کیون ہالینڈ نے وضاحت کی کہ "ڈیلٹا" فورس کی ٹیم نے عراقی صدر کو گرفتار کرنے کے بعد کہا کہ ’’ صدر بش انہیں سلام بھیجتے ہیں‘‘۔وہ صدر صدام ، جو زیر زمین ایک گڑھے میں چھپے ہوئے تھے، کو نکال کر باہر لے گئے تھے۔ اس وقت بش جونیئر امریکہ کے صدر تھے۔
کیون ہالینڈ نے "ڈینجر کلوز" کے عنوان سے ایپی سوڈ میں مشن کو "مشکل اور حقیقت پسندانہ" کے طور پر بیان کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی دستے تک یہ اطلاع پہنچی تھی کہ صدام حسین عراق کے ایک چھوٹے سے زرعی قصبے کی زمین میں ایک سوراخ میں چھپا ہوا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس سوراخ کو پتوں اور ریت کی ایک تہہ سے ڈھانپ دیا گیا تھا، اس کے مقام کو چھپانے کے لیے اسے سٹائرو فوم سے بند کر دیا گیا تھا، اس سوراخ میں ہوا کے بہاؤ کو جاری رکھنے کے لیے ایک چھوٹی سی ٹیوب لگی ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ افسران نے سوراخ کو کھولا اور اسے اینٹوں سے لیس پایا تو انہوں نے اس میں دستی بم پھینکا یہاں تک کہ عربی بولنے والی انسانی آواز سنائی دی۔
کیون ہالینڈ نے مزید کہا کہ میں نے اپنے ہاتھوں کو سوراخ سے باہر نکالا، گھنے بالوں والا سر پکڑا، یہ معلوم کرنے کے لیے کہ یہ صدام حسین ہے" ۔ انہوں نے کہا صدر کی حالت تعجب خیز تھی۔
صدام کا ہتھیار بش کی تحویل میں
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صدام کا پسٹل "گلاک 18" امریکی صدر کے قبضے میں تھا، یہ بتاتے ہوئے کہ وہ ہتھیار آج صدر جارج ڈبلیو کے پاس ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عراقی صدر نے اپنی شناخت ظاہر ہونے کے بعد امریکی ٹیم سے مذاکرات کی اپیل بھی کی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے دسمبر 2003 میں "ریڈ ڈان" نامی فوجی آپریشن کیا تھا جس میں اس نے عراق کے سابق صدر صدام حسین کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد صدام حسین کو موت کی سزا سنائی گئی اور 30 دسمبر 2006 کو پھانسی دے دی گئی۔