ترکیہ کی طرف سے بھی بن گویر کے اشتعال انگیز دورہ مسجد اقصٰی کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکیہ نے بھی اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے داخلی سلامتی بین گویر کے اشتعال انگیز دورہ مسجد اقصیٰ کی مذمت کی ہے۔ ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا 'وزیر داخلہ بن گویر کی طرف سے یہ اشتعال انگیزی ناقابل قبول ہے۔'

یہ بات ترک وزیر خارجہ نے بدھ کے روز بتائی ہے۔ بن گویر کا یہ دورہ مسجد اقصٰی منگل کے روز ان کے وزارت سنبھالنے کے محض چند دن بعد ہوا ہے۔ جس کو دنیا بھر میں اشتعال انگیزی کی سرگرمی قرار دیا گیا ہے۔

مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے انتہائی مقدس مقامات میں سے ایک ہے۔ جبکہ یہودی دعویٰ رکھتے ہیں کہ یہ ان کے قدیمی معبد کی بھی جگہ ہے۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر اسے مسلمانوں کے اختیار میں رہنے کو قبول کیا گیا ہے۔

ایتمار بن گویر کے دورہ مسجد اقصیٰ کی اشتعال انگیزی کی شدت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ترکیہ جس نے تقریبا بارہ سال بعد اسرائیل کے ساتھ اپنے منجمد سفارتی تعلقات کو حال ہی میں بحال کیا ہے اس کی طرف سے بھی اسرائیل سے وزیر خارجہ کی سطح پر احتجاج کیا گیا ہے۔

واضح رہے ترکیہ نے پچھلے سال اگست میں دوبارہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بحال کیا۔ ترک صدر طیب ایردوآن نے پچھلے ماہ نیتن یاہو کو چھٹی بار وزیر اعظم بننے پر مبارکبا کا پیغام بھی بھیجا ہے۔

تاہم ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے اسرائیلی ہم منصب ایلی کوہن کو فون کر کے تازہ اشتعال انگیزی کی مذمت کی ہے اور دو طرفہ تعلقات کو بہتر کرنے والے اقدامت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں