ہوابازی کی صنعت کی بحالی اور چین کھلنےسے تیل کی طلب میں اضافہ ہوا:سعودی آرامکو

ہم مارکیٹ میں طلب کی واپسی کے معاملے میں بہت پُرامید ہیں،چین سے اچھے اشارے ملنے لگے ہیں: امین الناصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکونے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ اس سال تیل کی طلب میں زبردست اضافہ متوقع ہے کیونکہ چین اپنی معیشت کو دوبارہ کھول رہا ہے اور ہوابازی کی مارکیٹ بحال ہو رہی ہے۔

سعودی آرامکو کے چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او) امین الناصر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ہم مارکیٹ میں طلب کی واپسی کے معاملے میں بہت پُرامید ہیں۔ہمیں چین سے اچھے اشارے ملنے لگے ہیں۔امید ہے کہ اگلے چند ماہ میں ہم معیشت میں مزید تیزی دیکھیں گے‘‘۔

ان کے مطابق جیٹ ایندھن کی طلب اب کروانا وائرس کے وبائی امراض سے پہلے کی سطح سے قریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ کم ہے اوریہ ایک سال پہلے کے اعدادوشمار سے قریباً نصف ہے مگر اس میں تیزی آرہی ہے۔

وہ ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں اظہارخیال کررہے تھے۔انھوں نے بتایا کہ 2022ء میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ یوکرین پرروس کے حملے کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت قریباً130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، لیکن حالیہ مہینوں میں چینی، امریکی اور یورپی معیشتوں کی سست روی کی وجہ سے اس میں کمی آئی ہے۔یہ قریباً 86.80 ڈالر فی بیرل میں تجارت کر رہا ہے۔یہ دسمبر کے آخرمیں تیل کی عالمی قیمت فروخت سے ایک فی صد زیادہ ہے۔

گولڈمین ساکس گروپ انکارپوریٹڈ سمیت وال اسٹریٹ کے بہت سے بینکوں کو توقع ہے کہ سال کی دوسری ششماہی میں تیل کی قیمت 100 ڈالرفی بیرل سے زیادہ ہوجائے گی۔ انھوں نے اس وقت تک عالمی سطح پرمعاشی بحالی،امریکا جیسے ممالک میں ایندھن کے کم ذخیرے اور مغرب کی جانب سے پابندیوں کو سخت کرنے کے بعد روسی برآمدات میں کمی کے امکانات کا حوالہ دیا۔

بفرز میں کمی

امین الناصرنے اس بات کااعادہ کیا کہ کمپنیوں کو تیل کی پیداوار میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئیڈیل گنجائش 20لاکھ بیرل یومیہ ہے اور یہ مقدار 10 کروڑ بیرل کی کل طلب سے کچھ زیادہ ہے ، اور ممکنہ طور پر چین کے کروناوائرس کے لاک ڈاؤن ختم کرنے کے بعد اس میں کمی آئے گی۔

سی ای او کے مطابق، دنیا کو موجودہ شعبوں میں قدرتی گراوٹ کو پورا کرنے کے لیے روزانہ 40 لاکھ سے 60 لاکھ بیرل تک نئی پیداوار کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا،ہم ایسی صورت حال میں جارہے ہیں جہاں ہم اضافی گنجائش کو ختم کررہے ہیں اور کسی بھی سپلائی میں رکاوٹ کا بہت بڑا اثر پڑے گا۔انھوں نے روس کے حملے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں 250 ڈالر فی بیرل کے مساوی اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:’’ہم قدرتی گیس جیسی صورت حال میں ہوں گے‘‘۔

سعودی عرب کی سرکاری کمپنی کا خیال ہے کہ تیل کی طلب میں اس عشرے کے دوران میں اضافہ جاری رہے گا۔یہ اور بات ہے کہ برقی گاڑیاں زیادہ مقبول ہوگئی ہیں اور سرمایہ کار قابل تجدید توانائی میں پیسہ لگاتے ہیں۔

سی ای او نے کہا، "اس سے تیل کی کچھ مانگ کم ہو رہی ہے۔ پھر بھی، خام تیل کی کھپت "یقینی طور پر 2030 میں زیادہ ہوگی۔

پیٹرو کیمیکل پر زور

انھوں نے کہا کہ پلاسٹک سے لے کر کھاد اور کپڑوں تک ہر چیز کے لیے پیٹرو کیمیکل کا بڑھتا ہوا استعمال آرامکو کے لیے مثبت ہے۔

امین الناصر نے بتایا کمپنی اس دہائی کے آخر تک 40 لاکھ بیرل یومیہ خام تیل کو پیٹروکیمیکل میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔وہ چینی ریفائنریوں اور مائع سے کیمیائی پلانٹس میں مزید سرمایہ کاری پر غور کررہی ہے۔

انھوں نے کہا’’ہم چین میں بہت سے اداروں کے ساتھ سنجیدگی سے بات چیت کر رہے ہیں‘‘۔گذشتہ سال آرامکو اور اس کے کیمیکلز کے ذیلی ادارے سابک نے کہا تھا کہ وہ چین کے ساحلی شہر گولی میں 3 لاکھ 20 ہزار بیرل یومیہ صلاحیت کی حامل ریفائنری تعمیرکرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

ہائیڈروجن مذاکرات

آرامکو ہائیڈروجن کے پیداواری منصوبوں میں بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے، ایک ایسا ایندھن جو توانائی کی صاف ستھری شکلوں میں منتقلی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔سعودی فرم کا ہدف قدرتی گیس کو تبدیل کرکے اور اس عمل میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پکڑنے کے ذریعے تیار کردہ بلیو ہائیڈروجن کو 2030 سے بڑے پیمانے پر برآمد کرنا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جاپان اور جنوبی کوریا میں ممکنہ درآمد کنندگان کے ساتھ بات چیت جاری ہے جبکہ انھیں کسی بھی سپلائی معاہدوں پر دست خط کرنے سے پہلے اپنی حکومتوں سے مالی مدد کی یقین دہانی حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

امین الناصر نے کہا کہ بلیو ہائیڈروجن کی قیمت قریباً 250 ڈالر فی بیرل تیل کے برابر ہوسکتی ہے لیکن آرامکو قیمت کے تعیّن کے لیے مزید تحقیق کرے گی۔تاہم انھوں نے واضح کیا کہ یہ 80 ڈالر یا 100 ڈالر فی بیرل نہیں ہوگی‘‘۔یہ صاف ستھرا ایندھن ہے،اس کی قیمت زیادہ ہے‘‘۔ یورپی فرموں کے ساتھ مذاکرات مشکل ثابت ہو رہے ہیں، بنیادی طور پر کیونکہ وہ نیلے ہائیڈروجن کی قیمت کو کم کرنے کے لیے تکنیکی ترقی کا انتظار کرنا چاہتے ہیں۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر یورپ میں، آف ٹیک معاہدہ حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں