سعودی عرب کے وزیرمواصلات اور انفارمیشن ٹکنالوجی عبداللہ بن عامر السواحہ نے کہا ہے کہ حکومت ملک کے صنعتی شعبے میں باصلاحیت افراد کی تعداد کو دُگنا کررہی ہے۔
سعودی وزیر سوئس شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے ایک پینل میں گفتگو کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم صنعتی میٹاورز میں ٹیلنٹ اور ٹیکنالوجی کو دُگنا کر رہے ہیں‘‘۔اس پینل میں اس بات کا جائزہ لیا گیاکہ کس طرح میٹاورس کو صحت کی دیکھ بھال کے شعبے سمیت صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
مملکت اس وقت اپنے مستقبل کے شہرنیوم اور 2022 میں نیوم ٹیک اینڈ ڈیجیٹل کمپنی کے ماتحت ادارے ٹونومس کی ترقی میں مدد کے لیے میٹاورس کا استعمال کر رہی ہے۔اس نے ڈیجیٹل ٹوئن میٹاورس سمیت مصنوعات میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ ایک تھری ڈی ورچوئل اسپیس ہے جہاں اس منصوبے میں شامل افراد دیکھ سکتے ہیں کہ مستقبل میں یہ کیسا نظر آتا ہے۔
عبداللہ السواحہ نے اپنی گفتگو میں کہاکہ’’میں میٹاورس کا بہت بڑا حامی ہوں۔یہ ٹیکنالوجی کی اگلی لہر ہوگی اوریہ صنعتوں کی قدر میں اضافہ کرے گی‘‘۔
وزیرنے مزید کہا کہ نیوم اور بحیرہ احمر کے منصوبے کے ساتھ ،سعودی ولی عہد نے مبیّنہ طورپر ترقی کے آغاز سے پہلے تعمیر، ڈیزائن اور اصلاح کے مراحل کے ڈیجیٹل جڑواں مرحلے پرزوردتھا،جو میٹاورس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
انھوں نے مملکت میں ٹیکنالوجی میں کام کرنے والی خواتین کی تعدادمیں اضافے پر بھی روشنی ڈالی ، جس میں میٹاورس منصوبے بھی شامل ہیں۔
انھوں نے کہا:’’میں یہ دلیل دوں گا کہ یہ 21 ویں صدی میں خواتین کو بااختیار بنانے اور شمولیت کی سب سے جرآت مندانہ کہانی ہے‘‘۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کی وزارت مواصلات و اطلاعات نے گذشتہ سال اپریل میں کہاتھاکہ 2021 کی تیسری سہ ماہی میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین کی شرکت کی شرح 28 فی صد رہی تھی جو یورپی اوسط شرح 17.5 فی صد سے زیادہ ہے۔
سعودی وزیرنے بتایا کہ ’’ہم نے سائنس،ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اورریاضی (اسٹیم) میں خواتین کوبااختیار بنانے کی شرح 7 فی صد سے بڑھاکر 32 فی صد کرلی ہے۔اس طرح ہم یورپی یونین،جی 20 اور یہاں تک کہ سلیکون ویلی کے اوسط کو بھی پیچھے چھوڑچکے ہیں‘‘۔
انھوں نے مزید کہا:’’یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لحاظ سے مملکت آج عالمی سطح پرپہلے نمبرپرہے‘‘۔
سعودی عرب میں دیگرمنصوبے جن میں میٹاورس شامل ہیں،ان میں سعودی ارب پتی شہزادہ الولید بن طلال کی جانب سے نومبر 2022 میں شروع کیے گئے میٹاورس میں ورچوئل فلاحی مرکز بھی شامل ہے۔
سعودی حکومت نے گذشتہ سال ستمبرمیں یہ بھی اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب کے قومی دن کی ورچوئل تقریبات پہلی بار میٹاورس پلیٹ فارم پر منعقد کی جائیں گی۔