یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کی طرف سے اجتماعی قبروں میں درجنوں لاشوں کی تدفین پر انسانی حقوق کے حلقوں کی طرف سے تشویش اور شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی طرف سے جن 89 افراد کی موت کا اعلان کیا گیا ہے وہ مشکوک ہے اور یہ واضح نہیں کہ آیا فوت ہونے والے افراد کی موت کن حالات میں ہوئی ہے۔
یمن میں انسانی حقوق کی رپورٹوں کے مطابق حوثی ملیشیا نے بغاوت کے بعد سے تقریباً 16,804 شہریوں کے اغوا کیا۔ ان میں 4,201 افراد ابھی تک زیر حراست ہیں۔ حوثی ملیشیا نے حال ہی میں الحدیدہ اور ذمار گورنریوں میں نامعلوم لاشوں کی ایک نئی کھیپ کو دفن کرنے کا اعتراف کیا۔
تاہم اس اعتراف پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، کیونکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کا خیال ہے کہ ملیشیا نے اپنے حراستی مراکز میں قیدیوں کوقتل کرکے ان کی لاشوں کو ان قبروں میں چھپا دیا تھا۔
89 لاشیں
یہ شکوک اس وقت سامنے آئے جب ملیشیا کے ذرائع ابلاغ نے دو گورنریوں میں 89 لاشوں پر مشتمل دو تدفین کے عمل کی اطلاع دی۔
حوثی ملیشیا کے ماتحت استغاثہ نے بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے ساتھ اجتماعی تدفین کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان لاشوں کو اسپتالوں کے سرد خانوں میں رکھا گیا تھا۔
’الشرق الاوسط‘ کے مطابق اکتوبر کے آخر میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعا میں نامعلوم افراد کی 28 لاشوں کی تدفین کا پہلا مرحلہ مکمل کیاتھا۔
تاہم صنعاء میں باخبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ ملیشیا ان لاشوں کی تدفین کر رہی ہے جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ نامعلوم ہیں، جبکہ یہ حوثی ملیشیا کے ان عناصر کی لاشیں ہیں جو فرنٹ لائنز پر حکومتی فورسز کے ساتھ وقفے وقفے سے تصادم کے دوران مارے گئے تھے۔
الحدیدہ گورنری میں نامعلوم لاشوں کو دفن کرنے والے گروہ نے انسانی حقوق کے کارکنوں اور میڈیا کے پیشہ ور افراد کی طرف سے لگائے گئے کئی الزامات کے ساتھ اتفاق کیا کہ اس نے درجنوں شہریوں کے لیے اجتماعی قبریں کھودی ہیں جو اس کے زیر کنٹرول علاقوں میں پھیلے ہوئے اپنے تہہ خانوں میں تشدد کے باعث ہلاک ہو گئے تھے۔
واضح خلاف ورزی
قابل ذکر ہے کہ حدیدہ اور ذمار میں نامعلوم لاشوں کی دو حالیہ تدفین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنوں کے درمیان سوالات اٹھائے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس بات پر زور دیا کہ گروپ کے زیر کنٹرول علاقوں میں ان درجنوں نامعلوم لاشوں کو یکے بعد دیگرے دفن کرنا متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے جو اپنے پیاروں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
یمنی نیٹ ورک فار رائٹس اینڈ فریڈمز نے اپنی طرف سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے 14 ستمبر 2014 سے 30 اگست 2022 تک 16,804 شہریوں کو گرفتار اور اغوا کیا جن میں 4,201 مغوی ابھی تک حوثیوں کی حراست میں ہیں۔
-
جوبائیڈن کاحوثی حملوں کاایک سال پوراہونےپر یواے ای کے لیے امریکاکی حمایت کا اعادہ
امریکی صدر جوبائیڈن نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے مہلک حملے کوایک سال ...
بين الاقوامى -
حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا فوری معاملہ بن گیا: سعودی مندوب
سلامتی کونسل میں سعودی نمائندے سفیر عبدالعزیز الواصل نے پیر کے روز کہا ہے کہ حوثی ...
مشرق وسطی -
ایران سے یمن کے حوثیوں کو اسلحہ اسمگل کرنے کی ایرانی سازش ناکام
امریکی حکام کا یمن کو جنگی ہتھیار اسمگل کرنے والے جہاز کوقبضے میں لینے کا دعویٰ
بين الاقوامى