متحدہ عرب امارات کی یروشلم میں یہودی عبادت گاہ کے باہرحملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے زیر قبضہ مشرقی یروشلم میں ایک یہودی عبادت گاہ کے باہرجمعہ کو ہونے والے’’دہشت گردانہ‘‘حملے کی مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ اور بین الاقوامی تعاون نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ ’’متحدہ عرب امارات ان مجرمانہ کارروائیوں کی سخت مذمت کرتا ہے اور انسانی اقداراوراصولوں کے منافی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے ہرقسم کے تشدد اور دہشت گردی کو مستقل طور پر مستردکرتا ہے‘‘۔

متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی حکومت،اس کے عوام اور اس گھناؤنے جرم کے مقتولین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہارکیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں اس حملے سے ایک روز قبل اسرائیلی فوج نے جمعرات کو مقبوضہ مغربی کنارے کے فلیش پوائنٹ قصبے جنین میں چھاپامارکارروائی کی تھی اور اس میں کم سے کم نو فلسطینیوں کوشہید کردیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے علاوہ اردن، مصر اور سعودی عرب نے اسرائیل کے اس حملے کی مذمت کی ہے۔

گذشتہ روز یہودی عبادت گاہ کے باہرفائرنگ کے جواب میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تعینات اپنی افواج میں اضافہ کررہی ہے۔

دریں اثناء ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی عبادت گاہ کے باہرہونے والے حملے کی تعریف کی ہے اور فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے ترجمان نے اسے ’’جنین میں قابضین کے مرتکبہ جرائم کا ردعمل اور قابض انتظامیہ کے مجرمانہ اقدامات کا فطری جواب‘‘ قراردیا ہے۔

فلسطینیوں کے ایک اورمزاحمتی گروپ جہادِ اسلامی نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کیے بغیر اس کی تعریف کی ہے۔

فائرنگ کے اس واقعہ سے قبل رواں سال اسرائیل کی تشدد آمیز کارروائیوں میں کم سے کم 30 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔مقبوضہ علاقوں میں تشدد کے ان واقعات کے پیش بعد فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کا معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں