سعودی عرب کے شاہ سلمان انسانی امداد اور ریلیف مرکز(کے ایس ریلیف) نے شام اور ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے باضابطہ طورپراپنے امدادی پروگرام کا آغازکردیا ہے۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیزاورولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کے روز کے ایس ریلیف کو ہدایت کی تھی کہ وہ 7.8 کی شدت کے زلزلے سے متاثرہ ہزاروں افرادکو امداد مہیّا کرنے کے لیے فضائی پل بنائے۔
ایس پی اے کے مطابق شاہی دیوان کے مشیراور کے ایس ریلیف کے نگران اعلیٰ ڈاکٹرعبداللہ بن عبدالعزیز الربیع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مرکزکی رضاکار ٹیمیں زمینی مدد مہیّاکرنے کے لیے سفر کریں گی اور کے ایس ریلیف زلزلے سے متاثرہ افراد کو طبّی اورغذائی امداد مہیّاکرنے پر توجہ مرکوز کرے گا۔
#فيديو_واس | الدكتور الربيعة في حديثه لـ #واس: تجاوزت التبرعات للحملة قبل إطلاقها عشرات الملايين؛ مما يؤكد أن العمل الإنساني جزء لا يتجزأ من صفات الشعب السعودي.#واس_عام https://t.co/UaXvPvsrL6 pic.twitter.com/ohDOnpOEon
— واس العام (@SPAregions) February 8, 2023
شاہ سلمان کی ہدایت پر امدادی فضائی پل کے ذریعے زلزلے سے متاثرہ شامی اور ترک عوام کو طبّی سامان، ادویہ ،رہائش کے خیمے اورخوراک کی اشیاء مہیا کی جائیں گی۔اس کے علاوہ یہ لاجسٹک معاونت بھی مہیّا کرے گا۔
سعودی عرب دونوں متاثرہ ممالک کے زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے اپنے’’ساہم‘‘ پروگرام کے ذریعے عطیات بھی وصول کررہا ہے۔سعودی شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ روزاس پروگرام کا اعلان کیا تھا۔ساہم نے صرف دوروز میں 34 لاکھ ڈالر سے زیادہ رقوم اکٹھی کرلی ہیں۔
ترکیہ اور شام میں بدھ کے روز جاری کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں اموات کی تعداد 11500 سے زیادہ ہوگئی ہے۔امدادی کارکنان تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کی کھدائی اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ خدشہ ظاہرکیا جارہا ہے کہ مہلوکین کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک عہدہ دار کا کہنا ہے کہ مہلوکین میں ہزاروں کم سن بچّے ہوسکتے ہیں۔ترکیہ اورشمالی شام میں سوموار کوعلی الصباح تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں اسپتالوں، اسکولوں اور اپارٹمنٹ بلاکس سمیت ہزاروں عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں،ہزاروں افراد زخمی ہوئے اورلاتعداد افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔