ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے خلاف فرانسیسی پھر سڑکوں پر نکل آئے

اصلاحات نافذ کرنے کا حکومتی عزم، میکرون کا یونینز سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں فرانسیسی شہری چوتھی مرتبہ صدر میکرون کی جانب سے غیر مقبول پنشن اصلاحات کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا مطالبہ کردیا۔ فرانسیسی شہریوں نے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے احتجاج شروع کردیا ہے۔ دوسری طرف فرانسیسی صدر میکرون نے ایک مرتبہ پھر اصلاحات نافذ کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور احتجاج کرنے والی یونینز سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاج ترک کردیں۔

یونینوں کو نئی تحریک کے دن میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کی توقع ہے۔ احتجاج کے لیے ہفتہ کے دن کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ جو لوگ ہڑتال نہیں کر سکتے انہیں مظاہروں میں شرکت کی اجازت دی جائے۔

فرانسیسی ڈیموکریٹک کنفیڈریشن آف لیبر (سی ایف ڈی ٹی) کے اصلاح پسند یونین کے صدر لارینٹ برجر نے کہا کہ مظاہروں میں شریک افراد دس لاکھ سے بڑھ گئے ہیں۔

صدر میکرون کی جانب سے اہم اصلاحات کے خلاف احتجاج کے آغاز کے بعد سے قومی اسمبلی میں کشیدگی کے ماحول میں بحث اس معاملہ پر بحث جاری ہے۔ یونینوں نے وسیع پیمانے پر متحرک ہونے اور مظاہرے کرنے اور ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق منگل کو 757 ہزار اور 20 لاکھ کے درمیان مظاہرین نے شرکت کی۔ 31 جنوری کو یہ تعداد 1.27 سے لیکر 25 لاکھ سے زیادہ تھی۔

رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر فرانسیسی عوام ان اصلاحات کی بنیاد کو مسترد کرتے ہیں۔ ان اصلاحات میں ریٹائرمنٹ کی قانونی عمر کو 62 سے بڑھا کر 64 سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکومت اس اصلاحات کو نافذ کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کر رہی ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس نے منصوبے کے بنیادی حصے کو متاثر کیے بغیر کچھ ترامیم متعارف کرانے پر اتفاق کیا۔ جمعہ کو برسلز میں میکرون کے ریمارکس پر یونینوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں