ایران مظاہرے

ایران میں اسکول طالبات پرجاری زہرخورانی کے پُراسرارحملوں کے خلاف مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے مختلف صوبوں میں ہفتے کے روز اسکول طالبات کو زہر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں دسیوں طالبات کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔طالبات کو زہرخورانی کے وقعات کے خلاف دارالحکومت تہران میں مظاہرے کیے جارہے ہیں۔شہریوں نے ممکنہ طور پر حکومت پر ان حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور ان کی مذمت کی ہے۔

نومبر سے اب تک ایران بھرمیں لڑکیوں کے درجنوں اسکولوں میں زہریلے مواد سے حملے کیےگئے ہیں جس کی وجہ سے سیکڑوں لڑکیاں بیمار پڑگئی ہیں۔حکام نے ابتدائی طور پران واقعات کو مسترد کر دیا تھا لیکن حال ہی میں اس مسئلہ کی شدت کو تسلیم کیا ہے۔

طالبات کی طرف سے بیان کردہ علامات میں سردرد، دل کی دھڑکن میں تیزی، نقاہت، اور حرکت کرنے میں ناکامی شامل ہیں۔کچھ لوگوں نے غیر معمولی خوشبوؤں جیسے ٹینجرین، کلورین، یا صفائی کے لیے استعمال ہونے والے مواد کو سُونگھنے کے بارے میں بھی بتایا ہے۔

سرکاری خبررساں اداروں نے ہفتے کے روز فارس، حمدان، مغربی آذربائیجان اور البرز سمیت متعدد صوبوں میں زہرخورانی کے واقعات کی اطلاع دی ہے۔

نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے خبر دی ہے کہ صوبہ فارس کے شہر کاوارمیں لڑکیوں کے ایک اسکول کی 27 طالبات کو متلی، کمزوری اور چکر آنے کی علامات ظاہر ہونے پر اسپتال لے جایا گیا۔صوبہ مغربی آذربائیجان میں واقع اُورومیہ میں ایک اسکول کی مزید 30 طالبات کو زہر دینے کے بعد طبی مراکز لے جایا گیا ہے۔

سوشل میڈیاپرسرگرم تنظیم 1500تصویر نے ایران بھر میں لڑکیوں کے 40 سے زیادہ اسکولوں کی ایک فہرست جاری کی ہے۔یہ 20 سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں واقع ہیں۔ ان تمام اسکولوں میں ہفتے کے روز طالبات کو مبینہ طور پر زہر دیا گیا تھا۔

اس کی طرف سے ٹویٹرپرپوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین تہران کے دو حصوں میں وزارت تعلیم سے وابستہ عمارتوں کے باہر جمع ہوکراحتجاج کررہے تھے۔ایک ویڈیومیں مظاہرین کو نعرے لگاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’ہمارا دشمن یہیں موجود ہے۔وہ جھوٹ بولتے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ یہ امریکا ہے‘‘۔

یہ نعرہ حالیہ برسوں میں ایران میں ہونے والے مظاہروں میں بہت مقبول ہوا ہے، جس میں امریکاکے بجائے ایرانی حکومت کو ایرانی عوام کا حقیقی دشمن قراردیا گیا ہے۔

اس ویڈیو میں پولیس کی ایک گاڑی دیکھی جا سکتی ہے جبکہ تہران کی ایک اور ویڈیو میں سکیورٹی فورسز کے اہلکارایک شخص کو وین میں گھسیٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔دارالحکومت میں درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایرانی صدرابراہیم رئیسی نے جمعہ کو ملک میں اسکول کی طالبات پرزہریلے حملوں کی جاری لہر کو’سازش‘ قرار دیتے ہوئے اس کا الزام تہران کے 'دشمنوں' پر عاید کیا تھا۔انھوں نے کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا لیکن ایرانی حکام اکثر امریکا اوراسرائیل کے لیے 'دشمن' کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے علاوہ امریکااورجرمنی کی حکومتوں نے طالبات پر زہریلے حملوں کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا اور ایران سے ان واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ایک ایرانی عہدہ دار کا کہنا تھا کہ زہر دینے کے واقعات ملک میں لڑکیوں کے اسکولوں کو بند کرنے پرمجبورکرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

بعض ایرانیوں نےحکومت پر ان حملوں کا الزام عاید کیاہے۔ان کاکہنا ہے کہ مہسا امینی کی موت کے بعد ایران بھر میں ہونے والے مظاہروں کے پانچ ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد زہر دیے جانے کے واقعات سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہیں اور یہ احتجاج میں حصہ لینے پراسکولوں کی طالبات سے ’انتقام‘ کی ایک شکل ہے۔

مہسا امینی کو 16 ستمبر کو تہران میں اخلاقی پولیس نے خواتین کے لیے سخت ضابطۂ لباس کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس کے بعد پولیس کے زیرحراست ہی وفات پاگئی تھیں۔ان کی پُراسرار موت کے بعد کئی ماہ تک مظاہرے جاری رہے تھے اور یہ تیزی سے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کے مطالبے میں تبدیل ہو گئے تھے۔

ایران بھر میں اسکول طالبات نے بھی اس احتجاجی تحریک میں حصہ لیا، سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز میں انھیں حجاب اتارتے اور اسکولوں کے احاطے میں حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں