بھارت میں گفتگو کے دوران روسی وزیر خارجہ کی بات پر ’طنزیہ لافٹر‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پچھلے سال روس یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سےروسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف "سخت" بیانات دینے میں مصروف ہیں مگربعض اوقات انہیں اپنے بیانات کے رد عمل میں طنزو مزاح اور تسمخر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بھارت میں لاوروف کو بہ ظاہر سامعین کی طرف سے ایک عجیب قہقہے کا نشانہ بنایا گیا۔ گذشتہ روز بھارت کے دورے دوران نئی دہلی میں منعقدہ G-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ایک لیکچر دے رہے تھے کہ ان کی باتوں پر سامعین کی طرف سے اچانک ایک قہقے بلند ہوا۔

یوکرین میں جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے لاوروف نے حاضرین سے کہا کہ "جس جنگ کو ہم روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جس جنگ کو ہمارے خلاف یوکرینی عوام کو استعمال کر کے شروع کی گئی تھی..."

وہ ابھی اپنی بات مکمل نہیں کر پائے تھے کہ اس لمحے حاضرین کی چیخیں اور قہقہے گونج اٹھے۔ حاضرین کی طرف سے طنزیہ رد عمل پر روسی وزیر خارجہ کو کچھ لمحےاپنی گفتگو روکنا پڑی۔ تاہم اس کے بعد انہوں نے معمول کے روسی بیانیے کو آگے بڑھاتے ہوئے یوکرین جنگ کے بارے مییں اپنی بات مکمل کی۔

اس واقعے کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس پر صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ لاوروف نے اسی لیکچر میں مغربی ممالک پر کڑی تنقید کی تھی۔ انہوں نےمغربی ممالک پرگذشتہ سال نارڈ اسٹریم گیس پائپ لائن پر بمباری میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا ملک توانائی کے شعبے میں اب مغربی شراکت داروں پر انحصار نہیں کرے گا بلکہ قابل اعتماد شراکت داروں جن میں چین اور بھارت شامل ہیں پر انحصار کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں