بحیرہ اسود پر خطرناک روسی ۔ امریکی ٹکراؤ کے بعد لندن کی وارننگ
برطانیہ کے وزیر دفاع بین والیس نے ماسکو سے بین الاقوامی فضائی حدود کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے جب امریکہ نے کہا ہے کہ روس نے منگل کو بحیرہ اسود میں اس کا ایک ڈرون مار گرایا ہے۔
برطانوی وزیردفاع نے ٹوکیو میں چیبا کے مقام پر’جاپان ڈی ایس ای آئی‘ دفاعی نمائش کے دوران خبر رساں ادارے’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ "یہاں اہم بات یہ ہے کہ تمام فریق بین الاقوامی فضائی حدود کا احترام کرتےہیں اور ہم روسیوں سے ایسا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں"۔
روسی Su-27 فائٹر اور امریکی MQ-9 ملٹری ڈرون کے درمیان ٹکراؤ کا واقعہ ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے دونوں طاقتوں کے درمیان اپنی نوعیت کا پہلا براہ راست تصادم ہے اور اس سے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا خطرہ ہے۔ روس نے کہا ہےکہ وہ اس واقعے کو اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھتا ہے۔
بحیرہ اسود کے اوپر امریکی ڈرون کے ساتھ روسی لڑاکا طیارے کے تصادم کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے واشنگٹن میں تعینات روسی سفیر اناتولی انتونوف کو طلب کرکے واقعے پران سے احتجاج کیا گیا۔ نتونوف نے کہا کہ بحیرہ اسود میں امریکی ڈرون کی موجودگی ایک غیر معمولی بات اور اشتعال انگیزی کا عمل ہے۔
المحلل السياسي أندريه أونتيكوف: الروايات الروسية والأميركية حول حادث البحر الأسود متباينة.. والمسيرات لا يمكن أن تسقط ببساطة#العربية pic.twitter.com/tkb2f9lZO1
— العربية (@AlArabiya) March 14, 2023
حکام کے مطابق امریکی ڈرون کو روکنے کی کوشش میں روسی طیارہ ڈرون سے ٹکرا گیا، ٹکر کے نتیجے میں امریکی ڈرون مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
امریکی فوجی حکام نے روسی طیاروں کے اس عمل کو ’’غیر محفوظ‘‘ اور ’’غیر پیشہ ورانہ‘‘ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی طیارے نے متعدد بار امریکی ڈرون کے قریب سے گزر کر اس پر تیل گرانے کی کوشش بھی کی تھی جو کہ ماحولیاتی اور پیشہ ور اخلاقیات کے منافی عمل تھا۔
امریکی فوجی حکام کا کہنا تھا کہ واقعے کے باوجود امریکا اور اس کے اتحادی علاقے میں اپنا آپریشن جاری رکھیں گے۔