بائیڈن اسرائیل

اسرائیل خودمختار ملک ہے، بیرونی دباؤ سے فیصلے نہیں کرتا: یاہو کا بائیڈن پر جوابی وار

"اسرائیل ایک خودمختار ملک ہے جو اپنے فیصلے اپنے عوام کی مرضی سے کرتا ہے نہ کہ بیرونی دباؤ بشمول بہترین دوستوں کی بنیاد پر" نیتن یاہو نے کہا۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل جس راہ پر چل نکلا ہے اس پر زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ [جو بائیڈن] مستقبل قریب میں بنیامین نیتن یاہو کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، بائیڈن کا کہنا تھا: "مجھے امید ہے کہ وہ [نیتن یاہو] اس (عدالتی اصلاحات کے متنازعہ منصوبے) سے باز آ جائیں گے۔"

اس بیان سے ایک دن قبل جب بائیڈن سے جب سوال کیا گیا ’’کیا وہ اسرائیلی وزیر اعظم کو واشنگٹن مدعو کریں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا "نہیں. قریبی مدت میں نہیں، "

اس بیان کے بعد رات گئے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں، نیتن یاہو نے بائیڈن پر جوابی حملہ کیا۔

نیتن یاہو نے اپنے پیغام کے آغاز میں کہا کہ "اسرائیل اور امریکہ کے درمیان یہ اتحاد اٹوٹ ہے اور ہمارے درمیان کبھی کبھار ہونے والے اختلافات پر ہمیشہ قابو پا لیا جاتا ہے۔"

اس بیانیہ ’’کہ نیتن یاہو جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں’’ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’’وہ اسرائیلی حکومت کے تینوں شعبوں [مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ] کے درمیان مناسب توازن بحال کر کے جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘

اپنی بات مکمل کرتے ہوئے مسٹر یاہو نے کہا کہ "اسرائیل ایک خودمختار ملک ہے، جو اپنے فیصلے اپنے عوام کی مرضی سے کرتا ہے نہ کہ بیرونی دباؤ بشمول بہترین دوستوں کی بنیاد پر"

اور یہ واضح طور پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات کی جانب ایک اشارہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں