ملائیشیا:سابق وزیراعظم نجیب کی بدعنوانی کی سزاپرنظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ سےمسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ملائیشیا کی اعلیٰ ترین عدالت نے جمعہ کو سابق رہنما نجیب رزاق کی بدعنوانی کے الزام میں 12 سال کی قید کی سزا کے خلاف اپیل کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سیاسی واپسی کا دروازہ بند کر دیا-

سابق وزیر اعظم نے وفاقی عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ سزا کے خلاف ان کی حتمی اپیل کو مسترد کرنے کے سابقہ پینل کے فیصلے پر نظرثانی کرے، جو ریاستی سرمایہ کاری فنڈ میں بدعنوانی کے الزام پر مبنی ہے۔

69 سالہ نجیب نے دعویٰ کیا کہ انہیں سابقہ بنچ سے منصفانہ سماعت نہیں ملی، اور الزام لگایا کہ ایک جج کے مفادات ان سے متصادم ہیں۔ اور یہ کہ ان کی نئی قانونی ٹیم کو کیس کے دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے لیے کافی وقت نہیں دیا گیا۔

لیکن جمعہ کو وفاقی عدالت نے اس چیلنج کو مسترد کر دیا۔

وہ ملائیشیا کے ترقیاتی فنڈ 1 ایم ڈی بی سے 42 ملین رنگٹ (10.1 ملین ڈالر) اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے پر اختیارات کے ناجائز استعمال، منی لانڈرنگ اور اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی کے الزام میں 12 سال قید کی سزا کاٹتے رہیں گے۔

نجیب کو مزید درجنوں الزامات کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے ان کی سزا کا وقت مزید بڑھ سکتا ہے۔

ان میں سے زیادہ تر کا تعلق 1 ایم بی ڈی اسکینڈل میں اس کے مبینہ کردار سے ہے، جس کی وجہ سے امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور سنگاپور سمیت دنیا بھر میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات ہوئیں۔

ان الزامات نے نجیب کی معزولی اور 2018 کے انتخابات میں ان کی جماعت کی طویل حکمرانی کے بعد شکست میں اہم کردار ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں